Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو کھانے میں ٹوائلیٹ کلینرملا کردیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ عمران خان نے جج ناصرجاوید رانا کی عدالت میں یہ دعویٰ کیا ہے۔

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے 71 سالہ خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسے کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو پارٹی کو وفاقی دارالحکومت میں ریلی کرنے کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی تھی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو ایک سیل میں رکھا گیا ہے۔ ان کے اردگرد 6 سیل بھی ان کے لیے مختص ہیں، عمران خان کے لیے ہم نے 7 سیل مختص کر رکھے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل میں 10 افراد کے لیے ایک سیکیورٹی اہلکار ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات سے ٹھیک پہلے نیب کورٹ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ معاملے میں 14 سال کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کردیا ہے، لیکن دونوں پر بڑا جرمانہ لگایا گیا ہے۔

تقریب میں بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، گورنر سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا شریک رہے۔حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف، اسحاق ڈار، ایاز صادق، محسن نقوی، فاروق ایچ نائیک، مولا بخش چانڈیو موجود تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد پی پی پی کے شریک چیئرمین اور پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے مشترکہ امیدوار زرداری نے ہفتے کے روز صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو عمران خان نے اس پر سخت تنقید کی۔

پاکستان کے 14ویں صدر کے لیے ووٹنگ صبح 10 بجے شروع ہوئی جو شام 4 بجے تک جاری رہی۔ پاکستان کے نئے صدر موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جگہ لیں گے، جن کی پانچ سالہ مدت گزشتہ سال ختم ہو گئی تھی۔

اتوار کے روز، اپوزیشن کے نعروں کے درمیان، شہباز نے نو منتخب پارلیمنٹ میں آرام سے اکثریت حاصل کر لی تھی۔ جیسے ہی وہ پاکستان کی نئے وزیر اعظم منتخب ہوئے، شہباز شریف نے پاکستان کی طے شدہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے وہی پرانے کشمیر کے  مسئلے کو اٹھادیا۔

پاکستان مسلم لیگ نون اوران کے اتحادی کی طرف سے نامزد سابق وزیراعظم شہباز شریف ایک بار پھر ایوان میں اکثریت کے ساتھ پاکستان کے 33ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں ۔ پاکستانی ایوان میں ووٹنگ کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میاں شہباز شریف کے حق میں 201ووٹ پڑے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ ن سمیت، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان مسلم لیگ، استحکام پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی سمیت کئی اور جماعتوں کی حمایت حاصل ہو گی۔جبکہ تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کو سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی حمایت حاصل ہو گی۔