Bharat Express DD Free Dish

Human rights

دہلی فسادات معاملے میں  گزشتہ 5 برس سے زائد عرصے سے مقید عمر خالد، شرجیل امام  اور دیگر ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سنوائی کے بعد ملزمان کی  درخواست ضمانت  پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

جے این یو کے سابق ریسرچ اسکالر عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو دہلی فسادات میں مبینہ طور پر سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہن کی شادی میں شامل ہونے کے لیے عمر خالد نے عبوری کی درخواست دی ہے۔

چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ کو کانگریس نے اندرا گاندھی امن انعام سے نوازا ہے۔ اب اسے لے کر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ آئیے جانیں آخر ایسا کیوں؟

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ (8 نومبر) کو دارالحکومت دہلی میں سپریم کورٹ میں قانونی امداد کی فراہمی کے نظام کو مضبوط کرنے سے متعلق قومی کانفرنس کا افتتاح کیا۔

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور چارج شیٹ داخل ہو گئی ہے، اس لیے تینوں ملزمان کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔ ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں اس سے قبل الہٰ آباد ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے زیادہ تر جمہوری ممالک میں ایسی پابندیاں نہیں ہیں۔ کینیڈا اور برطانیہ کی سپریم کورٹس نے بھی جیلوں میں بند قیدیوں کے حق رائے دہی پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ درخواست گزار نے یہ بھی بتایا کہ پڑوسی ملک پاکستان میں بھی زیر سماعت قیدیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے۔

ایڈووکیٹ محمد طفیل نے متاثرہ خاندان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اے پی سی آر متاثرہ خاندان کے ساتھ قانونی اور سماجی دونوں سطحوں پر انصاف کی لڑائی لڑے گا۔‘‘

پروگرام میں تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ اپنی آزادی بحال کرے، یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کا خاتمہ ہو اور یہ اصول دوبارہ زندہ ہو کہ ’ضمانت قاعدہ ہے، جیل استثنا۔‘‘

چار ستمبر کو نافذ کی گئی اس پابندی کے تحت وہ پلیٹ فارمز بند کر دیے گئے جو نیپالی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جعلی شناخت کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر، جھوٹی خبریں اور فراڈ پھیلایا جا رہا تھا۔

کٹھمنڈو، جھاپا، پوکھرا، بٹول، چتون، نیپال گنج اور بیراٹ نگر سمیت کئی شہروں میں نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ جھاپا میں مظاہرین نے وزیراعظم کے پی شرما اولی کا پتلا نذرِ آتش کیا اور میونسپل دفتر کے گیٹ توڑنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔