Bharat Express DD Free Dish

Sambhal mosque violence case: سپریم کورٹ نے سنبھل مسجد تشدد معاملے کے تین ملزمان محمد دانش، فیضان اور نذیر کو دی ضمانت

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور چارج شیٹ داخل ہو گئی ہے، اس لیے تینوں ملزمان کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔ ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں اس سے قبل الہٰ آباد ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ نے پیر کے روز اتر پردیش کے سنبھل ضلع میں واقع مغل دور کی ایک مسجد میں گزشتہ سال ہوئے تشدد کے معاملے میں گرفتار تین ملزمان محمد دانش، فیضان اور نذیر کو ضمانت دے دی۔ یہ واقعہ محکمہ آثار قدیمہ (ASI) کی عدالت کے حکم پر کی جانے والی جانچ کے دوران پیش آیا تھا، جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

نومبر 2024 میں پیش آیا تھا سانحہ

گزشتہ سال نومبر میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس نے متعدد ایف آئی آر درج کی تھیں اور کل 80 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ تشدد اس وقت بھڑک اٹھا جب مقامی افراد نے مسجد کی جانچ پر اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں پتھراؤ، آتش زنی اور شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔

عدالت عظمیٰ کا فیصلہ

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور چارج شیٹ داخل ہو گئی ہے، اس لیے تینوں ملزمان کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔ ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں اس سے قبل الہٰ آباد ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

ریاست کی مخالفت، وکلا کی دلیل

سماعت کے دوران یوپی حکومت کے وکیل نے ضمانت کی مخالفت کی، تاہم درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ سلیمان خان نے کہا کہ تینوں افراد کا نام ابتدائی ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا اور ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی نہیں ملا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف صرف ایک شریک ملزم کا اعترافی بیان موجود ہے، جو قانون شہادت کے مطابق قابل قبول نہیں ہے۔

ہائی کورٹ کا سابقہ موقف

الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرچہ ملزمان کا نام ایف آئی آر میں نہیں ہے، لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج اور برآمد شدہ شواہد ان کے پتھراؤ اور آتش زنی میں ملوث ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

الزامات اور دفعات

تمام ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (Bharatiya Nyaya Sanhita) اور عوامی املاک کے نقصان کی روک تھام ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان دفعات میں جان لیوا ہتھیاروں سے فساد، انسانی جان کو خطرے میں ڈالنا، اقدام قتل جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔

ضمانت کی تفصیلات

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ محمد دانش اور فیضان کو ایک ایف آئی آر سے متعلق ضمانت دی گئی ہے، جب کہ نذیر کو دو مختلف ایف آئی آرز کے سلسلے میں ضمانت ملی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر دیا کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور ملزمان کے خلاف مزید حراست کی ضرورت نہیں رہی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read