Bharat Express DD Free Dish

court order

وزیراعظم نریندر مودی کی ویڈیو ہٹانے کے تنازع کے درمیان میٹا کو عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے سوشل میڈیا کے باعث نوجوانوں کو ہونے والے نقصان سے متعلق مقدمے میں کمپنی کو تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جانیے، آخر پورا معاملہ کیا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر اشون ہیبار کے خلاف پہلا مقدمہ 12 اگست 2022 کو ایک جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر کی شکایت پر درج ہوا تھا، جبکہ دوسرا مقدمہ 19 جون 2025 کو ایک پوسٹ گریجویٹ طالبہ نے درج کرایا۔ دونوں مقدمات میں انہیں گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں عدالت سے ضمانت مل گئی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹر ہیبار نے اپنی بحالی کے لیے سیاسی شخصیات اور بعض غیر سرکاری تنظیموں کے سفارشی خطوط کا سہارا لیا۔ 

ممبئی: ای-20 ایندھن (E20 Fuel) تنازع سے متعلق ڈیپ فیک ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی جعلی تصاویر پر بمبئی ہائی کورٹ نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری کو عبوری راحت دیتے ہوئے عدالت نے متنازع مواد کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کر دی ہے۔

چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ فیڈریشن کی انتخابی پالیسی میں زچگی اور اس کے بعد صحت یابی کی مدت کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔ عدالت نے اپنے تبصرے میں کہا: ’’زچگی زندگی کا ایک فطری اور نہایت اہم پہلو ہے، جس کے لیے خصوصی انتظامات اور ادارہ جاتی حساسیت ضروری ہے۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ صرف ماں بننے کی بنیاد پر کسی خاتون کھلاڑی کو پیشہ ورانہ مواقع سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

یہ معاملہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیش آیا تھا، جب راج بھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی جانب سے رتن پورہ بازار میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس جلسے میں راج بھر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کے لوگ ووٹ مانگنے آئیں تو انہیں جوتوں سے مارا جائے۔

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ تمام فریقین اے ایس آئی کی رپورٹ پر اپنے اعتراضات اور تجاویز آئندہ سماعت سے قبل جمع کرائیں، جو 2 اپریل کو مقرر ہے۔ عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ سماعت سے قبل مقام کا دورہ کر سکتی ہے۔ اے ایس آئی نے اس متنازع مقام پر 98 دن تک سائنسی سروے کیا تھا اور 15 جولائی 2024 کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ جب تک اس معاملے پر ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا، تب تک ٹرائل کورٹ میں اس کیس سے متعلق منی لانڈرنگ کے معاملے کی سماعت نہیں ہوگی۔ عدالت نے تمام ملزمان سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 16 مارچ مقرر کی ہے۔

عدالت نے مزید ہدایت دی کہ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر 30 مارچ کی شام تک شرجیل امام کو جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے خود کو حوالے کرنا ہوگا اور اس کی تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔