Bharat Express DD Free Dish

Health

ادرک کی چٹنی بنانے کے لیے چائے بنانے کے بعد بچی ہوئی ادرک سب سے پہلے نکال لیں۔ خیال رکھیں کہ اس پر چائے کی پتی یا زیادہ دودھ نہ لگا ہو۔ ادرک کو پانی سے ہلکا سا صاف کرلیں اور پھر اسے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ اگر ادرک کافی نرم ہو گئی ہے تو اسے براہ راست بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔چٹنی کو مزید ذائقے دار بنانے کے لیے اس میں تھوڑی ہری مرچ، لہسن اور ہرا دھنیا بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

سلبھ انٹرنیشنل نے صفائی ستھرائی کو وقار، صحت اور مساوات کے لیے ایک تحریک میں تبدیل کر دیا جبکہ ہاتھ سے کچلنے والوں کو آزاد کرنے میں مدد کی۔

محکمہ صحت نے اسپتالوں اور کلینکس میں انفیکشن کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے اقدامات مزید سخت کردیئے ہیں۔ ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو بھی احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔محکمہ صحت نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ کھانستے یا چھینکتے وقت ناک اور منہ کو رومال یا ٹشو سے ڈھانپیں اور صابن و صاف پانی سے ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں۔

میٹنگ میں ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دہلی میں اب تک ڈینگی کے 246، ملیریا کے 80 اور چکن گنیا کے 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ان تینوں بیماریوں سے اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔صحت محکمہ کی جانب سے علاج، مریضوں کی درجہ بندی، وینٹی لیٹر مینجمنٹ، ماسک کے استعمال اور ہوم کیئر سے متعلق رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

آج کل ہندوستان کو “وشوگرو” بنانے کی باتیں بہت کی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ملک صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنی عوام کی فلاح سے عظیم بنتا ہے۔

نورووائرس کو دنیا بھر میں ایک عام مگر خطرناک وائرس مانا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ہر سال اس کے تقریباً 68 کروڑ 50 لاکھ کیسز سامنے آتے ہیں، جن میں سے تقریباً 20 کروڑ بچے پانچ سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ وائرس ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد کی جان لیتا ہے،

آج جب ہم جامعہ ہمدرد کے وسیع و عریض کیمپس کو دیکھتے ہیں تو یہ دراصل حکیم عبد الحمید کے خواب اور محنت کا نتیجہ ہے

وزیز اعظم نریندر مودی کے اس دن کے الفاظ آج بھی یاد آتے ہیں: ملک میں کوئی بھی شخص صرف اس لیے معیاری علاج سے محروم نہ رہے کہ وہ اس کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔

سوڈیم نائٹروپروسائیڈ (Sodium Nitroprusside)، جو سرجری کے دوران خون بہاؤ کو کم کرنے، ہائی بلڈ پریشر کے ایمرجنسی حالات میں بلڈ پریشر کو تیزی سے کم کرنے، اور دل کی شدید ناکامی کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے، کی قیمت 28.99 روپے فی ایم ایل مقرر کی گئی ہے۔

ہندوستان نے برسوں کی محنت، بیداری اور صحت کی خدمات کے ذریعے اس بیماری کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی تصدیق خود ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے بھی کی ہے۔