Bharat Express DD Free Dish

Ghulam Nabi Azad

غلام نبی آزاد کی پارٹی ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی نے اتوار کو جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے لیے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی۔ اس فہرست میں 13 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔

جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوچکا ہے، امیدواروں کی لسٹ بھی جاری کی جارہی ہیں ،لیکن کانگریس پارٹی ابھی تک یہ طے نہیں کرپائی ہے کہ اسے اس انتخاب میں کیا کرنا ہے۔اکیلے چلنا ہے یا اتحاد کرنا ہے ۔

جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کی تیاریاں شباب پر ہیں ،تمام پارٹیاں اپنی پوری کوشش کررہی ہیں کہ ان کا ووٹ بینک زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوسکے ،اس بیچ کانگریس کے دفتر میں کافی خاموشی دیکھنے کو مل رہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ کشمیر میں کانگریس کی اچھی قیادت کا فقدان ماناجارہا ہے۔

غلام نبی آزاد کانگریس کے سینئر لیڈر رہ چکے ہیں۔ سال 2022 میں، انہوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کی اور اپنی نئی پارٹی، ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (DPAP) کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے اپنی پارٹی میں کئی کانگریسی لیڈروں کو شامل کیا جو اپنے اپنے شعبوں میں بااثر تھے۔ حالانکہ، حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر تاج محی الدین ہفتہ کو کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بڑا اعلان غلام نبی آزاد کی قیادت والی ڈی پی اے پی سے استعفیٰ دینے کے بعد کیا۔ محی الدین نے کہا کہ میں نے ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

غلام نبی آزاد کو انتخابات سے قبل بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر تاج محی الدین نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے

غلام  نبی آزاد نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں سے تبدیلی لانے کی درخواست اور اپیل کرتے ہیں۔ ایک نیا دور آیا ہے۔ پورے ملک میں تبدیلی آئی ہے۔ یہاں بھی تبدیلی ہونی چاہیے۔'' افسپا کو ہٹانے سے متعلق سوال پر آزاد نے کہا، ''افسپا کو ہٹانا چاہیے۔

بی جے پی کے امیدوار کھڑا نہ کرنے پر جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور بارہمولہ سے نیشنل کانفرنس کے امیدوار عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کو کشمیر میں اپنی شکست کا احساس ہے، اس لیے وہ مقابلہ نہیں کر رہی ہے۔

کانگریس کے سابق لیڈراور ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے صدرغلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ اگرایک بار پھر بی جے پی کی حکومت آتی ہے تو اس کے لئے کانگریس ذمہ دار ہوگی۔ جب تک کانگریس کی ابھی کی لیڈرشپ رہے گی تب تک بی جے پی کی حکومت رہے گی۔

کشمیرکی اننت ناگ-راجوری سیٹ پراس بارانتخابی مقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ اس سیٹ پر دو سابق وزرائے اعلیٰ انتخابی میدان میں ہیں۔ ایک طرف غلام نبی آزاد ہیں تو دوسری طرف محبوبہ مفتی۔ اس کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے امیدوار میاں الطاف کی صورتحال بھی مضبوط مانی جارہی ہے۔ بی جے پی نے ابھی تک یہاں کے لئے اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔