Bharat Express DD Free Dish

Gaza Under Attack

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے غزہ میں اسرائیلی آپریشن میں مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے ان کے ساتھ اپنا سکور طے کر لیا۔ لیکن نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

حزب اللہ نے منارا میں اسرائیلی فوجیوں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کو شمالی اسرائیل کے شہر منارا میں اسرائیلی فوجیوں پر راکٹوں اور میزائلوں سے تین حملے کیے ہیں۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فورسز نے رات کے دوران ’’دو وحشیانہ قتل عام‘‘ کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک مسجد اور ایک اسکول کی پناہ گاہ پر بمباری کی اور کم از کم 24 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ وہیں، ٹیلی گرام پر بتایا گیا کہ وسطی غزہ میں ہونے والے حملوں میں تقریباً 93 دیگر زخمی ہو گئے۔

حماس کے سیاسی دفتر کے سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سامح السراج بھی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ فوج کے مطابق روحی مشتھی کو حماس کے اہم رہنما یحییٰ سنوار کا قریبی سمجھا جاتا تھا،

سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ دو لوگ برابری یا باہمی حقوق کا احترام کیے بغیر ایک ساتھ رہ سکتے ہیں لہٰذا میری رائے میں مشرقِ وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں تو دو ریاستی حل ضروری ہے۔اقوام متحدہ کا مشرق وسطیٰ میں 1948 سے ایک فوجی نگرانی مشن جاری ہے۔

فلسطینی سیکورٹی ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ ایک اسرائیلی جنگی طیارے نے دیر البلاح شہر کے مشرق میں المنفالوتی اسکول کے قریب میزائل سے حملہ کیا۔ اس دوران، اسرائیل کی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے نیٹزارم راہداری میں درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک اور سینکڑوں انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے۔

مصری سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی وفود نے قاہرہ میں ملاقاتوں کا نیا دور شروع کیا، جس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کو ختم کرنا اور جنگ بندی کی تجویز پر اختلافات کو دور کرنا ہے۔

حماس نے بدھ کو فلسطینی اسلامی جہاد کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی سمجھوتے سے کم کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایک جامع جنگ بندی اور غزہ پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء شامل ہے۔

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے علاقائی سطح پر پھیلنے کے خطرے کا ’’تصور کرنا مشکل‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی فلسطینی ریاست کو وسیع تر بین الاقوامی تسلیم کرنے اور دو ریاستی حل کے نفاذ کا آغاز ہونا چاہیے کیونکہ یہ خطے میں استحکام کا بنیادی ضامن ہے۔

اعلیٰ سطح کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مصری جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل کی قیادت میں مصری سیکورٹی وفد حماس اور اسرائیل کے بیچ نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے کی کوشش کرے گا۔ اس کا مقصد جلد از جلد جنگ بندی کو ممکن بنانا ہے۔