Bharat Express DD Free Dish

Encounter

ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ ٹیموں نے یہ آپریشن  شروع کیا۔ حکام کے مطابق علاقے کے گھنے جنگلوں میں چھپے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔

پولیس اور فوج کی مشترکہ ٹیم نے جنوبی کشمیر کے ترال علاقے میں آپریشن شروع کیا اور دوطرفہ فائرنگ جاری ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے ساتھ یہ دوسرا انکاؤنٹر ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے آپریشن سندور شروع کر دیا ہے۔ تب سے اب تک سیکورٹی فورسز نے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ شوپیاں میں انکاؤنٹر کی جگہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی فوج دہشت گردوں کی تلاش میں کشمیر کے ایک ایک انچ کی تلاشی لے رہی ہے۔ اسی تسلسل میں فوج نے جمعہ سے اب تک دہشت گردوں کے چھ مکانات کو تباہ  و برباد کردیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں شدت پسند تنظیم کے مرکزی کمیٹی کا رکن پریاگ مانجھی عرف وویک بھی شامل ہے، جس پر ایک کروڑ روپےکا انعام تھا۔

سی آر پی ایف اور پولس فورس کی ایک مشترکہ ٹیم لالپانیا تھانہ علاقہ کے تحت لگو پہاڑی اور اس کے دامن کے جنگلاتی علاقے میں تلاشی مہم پر گئی تھی۔ اسی دوران جنگل میں چھپے نکسلیوں نے پولیس اور سیکورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے چھتیس گڑھ کے دورے سے پہلے اتوار کو پچاس ماؤنوازوں نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اس آپریشن کے دوران ڈی آر جی کے دو فوجی زخمی ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ زخمی فوجیوں کی حالت نارمل بتائی جاتی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان دہشت گردوں کا تعلق جیش محمد کی پراکسی تنظیم پیپلز اینٹی فاشسٹ فرنٹ سے ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے جمعہ کی صبح دوبارہ تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اب تک کے اس تصادم میں پانچ ملیٹنٹوں کو ہلاک کرنے میں سیکورٹی فورسز کامیاب ہوچکی ہے ،البتہ اس دوران دو اہلکار کے بھی زخمی ہونے کی خبر ہے۔ فی الحال انکاونٹر جاری ہے چونکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ ایک یا دو مزید دہشت گرد ابھی اس علاقے میں چھپے ہوئے ہیں ۔