Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار ان کی توجہ کسی مخالف ریاست پر نہیں بلکہ امریکہ کے ایک پرانے اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار خطے گرین لینڈ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں میں سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی کے بعد عالمی سیاست میں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے اور دنیا دو بڑے خیموں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے ممالک بھی ہیں جو کھل کر امریکہ کے موقف اور کارروائی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں واضح تضاد بھی نظر آیا۔ دراصل اس سے ایک دن قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ڈیلسی روڈریگز سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ امریکہ کی شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی جانب سے کی گئی حالیہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک اور جارحانہ اقدام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کو مجروح کرتا ہے۔

وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کارروائی کی گئی، اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے خودمختار ملک کے خلاف زبردستی اور اس کے صدر کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

کملا ہیرس نے واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ کی اس کارروائی سے امریکہ نہ تو زیادہ محفوظ ہوگا، نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ انہوں نے لکھا کہ اگرچہ مادورو ایک آمر ہیں، لیکن اس طرح کا قدم سراسر بے وقوفانہ اور قانون کے خلاف ہے۔

امریکہ کی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ آف جسٹس نے ہفتہ کی دیر رات نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو ملک کی عبوری صدر مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک میں استحکام آنے تک امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کے انتظامی امور سنبھالے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیاسی بے چینی کو روکنا، معاشی نظام کو بحال کرنا اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ملک کو ایک محفوظ اور ذمہ دار قیادت کی طرف منتقل کیا جا سکے۔

امریکی حملے کے بعد ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مادورو کو پہلے ہی خود سپردگی کی وارننگ دی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل مادورو سے ان کی بات چیت ہوئی تھی، جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ انہیں سرنڈر کرنا ہوگا۔