Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکہ ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت روس سے تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف سخت پابندیوں سے متعلق ایک نئے قانون کی تیاری نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قانون کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جہاں سینسیکس تقریباً 750 پوائنٹس تک لڑھک گیا جبکہ نفٹی میں بھی 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

یہ واقعہ 7 جنوری کی صبح تقریباً ساڑھے نو بجے جنوبی منیا پولس میں ایسٹ چونتیسویں اسٹریٹ اور پورٹ لینڈ ایونیو کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت رینی نکول گڈ کے طور پر ہوئی ہے،

وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ گرین لینڈ کو امریکہ کے ذریعے حاصل کرنے کا معاملہ صدر اور قومی سلامتی ٹیم کے درمیان سرگرم بحث میں ہے۔ انہوں نے اسے آرکٹک خطے میں روس اور چین کی جارحانہ سرگرمیوں کو روکنے سے جوڑا۔ حالانکہ، یہ بھی واضح کیا کہ صدر کی اولین ترجیح ہمیشہ سفارت کاری رہی ہے۔

اس پورے معاملے میں بھارت خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر اپنی توانائی کی ضروریات پوری کی ہیں۔ اگر امریکہ کا یہ نیا قانون نافذ ہو جاتا ہے تو بھارت کو بھاری ٹیکس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،

اس سے قبل  ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے حوالے سے ایک اور بڑا بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی عبوری اتھارٹی 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل امریکہ کے حوالے کرے گی۔ یہ تیل عالمی منڈی کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹرمپ کو مواخذے (امپیچمنٹ) کا خدشہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات نہ جیتے گئے تو ڈیموکریٹس ان کا مواخذہ کر دیں گے۔

بھارت بھی ایک وقت میں وینزویلا کا بڑا تیل خریدار تھا، لیکن امریکہ کی پابندیوں کے سبب 2019 میں بھارتی ریفائنریوں کو وینزویلا سے تیل خریدنا بند کرنا پڑا۔ اس کے بعد بھارت مشرقِ وسطیٰ، روس اور امریکہ سے تیل پر زیادہ انحصار کرنے لگا۔

واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ روس نے وینزویلا کے ساحل کے قریب اپنے ایک پرانے تیل بردار جہاز کی حفاظت کے لیے آبدوز اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہی تیل ٹینکر اب امریکہ اور روس کے درمیان نئے تنازع اور سفارتی تناؤ کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکامات پر ہونے والے اس آپریشن کو محض تیل کے مفادات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے وجوہات کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہیں۔