Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

اچانک دھماکوں کے باعث عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا کہ لوگ کنفیوژن اور غیر یقینی صورتحال کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ دھماکوں کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ ان تصاویر اور ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

ایرانی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے دو صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 13 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی وقت کے مطابق پہلا دھماکا رات تقریباً ایک بج کر پچاس منٹ پر ہوا، جس کے بعد مزید چھ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ صدارتی محل کے اطراف میں مسلسل سائرن بجتے رہے اور فوجی گشت بڑھا دی گئی

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پرتشدد احتجاج ایران کے تقریباً 21 صوبوں تک پھیل چکا ہے اور 2022 کے بعد اسے ملک کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ سنگین معاشی بحران ہے۔ کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی، روزگار کے مواقع کی کمی اور بڑھتی مہنگائی نے عوام میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دوسری بار امریکہ کی اقتدار پر واپسی کے بعد دراندازوں کے خلاف مسلسل سخت کارروائیاں کر رہے ہیں۔ وہ بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے میں یہی مہاجرین سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اب امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل …

بنگلہ دیش میں جاری سیاسی تعطل اور ناخوشگوار واقعات  نے بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، جس پر امریکی صدر ٹرمپ کی قریبی معاون لورا لومر نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔

مشہور تھنکٹینک فرانسس فوکویاما نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے نوبیل انعام حاصل کرنے کی خواہش میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔

حکومتِ نائجیریا نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں کی حفاظت، قومی اتحاد کا تحفظ اور تمام شہریوں کے حقوق اور وقار کو یقینی بنانا ہے۔

رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کے حامیوں نے زندگی گزارنے کے اخراجات سے نمٹنے کے ان کے طریقے کو زیادہ تر مثبت درجہ دیا ہے۔ دسمبر میں کیے گئے ایک پول میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے تقریباً تین چوتھائی افراد نے ان کی پالیسیوں کی حمایت کی،

براؤن یونیورسٹی انتظامیہ نے ابتدا میں طلبہ اور عملے کو بتایا تھا کہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم بعد میں اس بیان کی تصحیح کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس اب بھی ایک یا ایک سے زیادہ مشتبہ افراد کی تلاش میں ہے۔