Self defence or murder?: امریکہ کے منیا پولس میں آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے خاتون ہلاک، واقعے پر امریکہ میں شدید تنازع،ٹرمپ نے ایجنٹ کا کیا دفاع
یہ واقعہ 7 جنوری کی صبح تقریباً ساڑھے نو بجے جنوبی منیا پولس میں ایسٹ چونتیسویں اسٹریٹ اور پورٹ لینڈ ایونیو کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت رینی نکول گڈ کے طور پر ہوئی ہے،
Trump’s statement on Greenland: ٹیرِف کی آمدنی سے فوج مضبوط کر رہا ہے امریکہ، گرین لینڈ پر ٹرمپ کے بیانات سے سیاسی ہلچل
وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ گرین لینڈ کو امریکہ کے ذریعے حاصل کرنے کا معاملہ صدر اور قومی سلامتی ٹیم کے درمیان سرگرم بحث میں ہے۔ انہوں نے اسے آرکٹک خطے میں روس اور چین کی جارحانہ سرگرمیوں کو روکنے سے جوڑا۔ حالانکہ، یہ بھی واضح کیا کہ صدر کی اولین ترجیح ہمیشہ سفارت کاری رہی ہے۔
India US Relations: روس سے تیل خریدنا بھارت کو پڑ سکتا ہے مہنگا ،کیا بھارت پر 500 فیصد ٹیرف لگائیں گے ٹرمپ؟
اس پورے معاملے میں بھارت خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر اپنی توانائی کی ضروریات پوری کی ہیں۔ اگر امریکہ کا یہ نیا قانون نافذ ہو جاتا ہے تو بھارت کو بھاری ٹیکس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،
Trump Claims Venezuelan Oil After Maduro Arrest: نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکہ کا وینزویلا کے تیل پر کنٹرول، ٹرمپ کا بڑا اعلان کہا-وینزویلا صرف امریکی مصنوعات خریدے گا
اس سے قبل ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے حوالے سے ایک اور بڑا بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی عبوری اتھارٹی 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل امریکہ کے حوالے کرے گی۔ یہ تیل عالمی منڈی کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا
Donald Trump impeachment warning: ٹرمپ کی کرسی پر منڈلانے لگا خطرہ ؟ ریٹریٹ پروگرام میں کہا— اگر ریپبلکن ہارے تو میرا مواخذہ (امپیچمنٹ) طے …
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹرمپ کو مواخذے (امپیچمنٹ) کا خدشہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات نہ جیتے گئے تو ڈیموکریٹس ان کا مواخذہ کر دیں گے۔
Venezuela to Send 50 Million Barrels of Oil to the US: ’’وینزویلا کا 50 ملین بیرل تیل پہنچے گا امریکہ، دونوں ممالک کو ہوگا فائدہ…‘‘ حالیہ فوجی کارروائی کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کا اعلان
بھارت بھی ایک وقت میں وینزویلا کا بڑا تیل خریدار تھا، لیکن امریکہ کی پابندیوں کے سبب 2019 میں بھارتی ریفائنریوں کو وینزویلا سے تیل خریدنا بند کرنا پڑا۔ اس کے بعد بھارت مشرقِ وسطیٰ، روس اور امریکہ سے تیل پر زیادہ انحصار کرنے لگا۔
Russia-US Oil Tanker Dispute: کیا اب امریکہ اور روس میں ہوگی جنگ؟ پوتن نے وینزویلا بھیجی آبدوز اور بحری جہاز، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟
واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ روس نے وینزویلا کے ساحل کے قریب اپنے ایک پرانے تیل بردار جہاز کی حفاظت کے لیے آبدوز اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہی تیل ٹینکر اب امریکہ اور روس کے درمیان نئے تنازع اور سفارتی تناؤ کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔
Why US Attack On Venezuela: صرف تیل ہی نہیں… کچھ اور پر بھی ہے ٹرمپ کی نظر، جانئے وینزویلا پر حملے کی اصل وجہ کیا ہے؟
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکامات پر ہونے والے اس آپریشن کو محض تیل کے مفادات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے وجوہات کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہیں۔
Donald Trump Eyes On Greenland: وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر ڈونالڈ ٹرمپ کی نظر، نیٹو کو سخت مشکلات کا سامنا، ڈنمارک کی سخت وارننگ
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار ان کی توجہ کسی مخالف ریاست پر نہیں بلکہ امریکہ کے ایک پرانے اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار خطے گرین لینڈ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں میں سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔
US Attack On Venezuela: وینزویلا پر امریکی کارروائی، دنیا دو خیموں میں تقسیم، جانئے کون دے رہا امریکہ کا ساتھ؟
وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی کے بعد عالمی سیاست میں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے اور دنیا دو بڑے خیموں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے ممالک بھی ہیں جو کھل کر امریکہ کے موقف اور کارروائی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔





