Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں واضح تضاد بھی نظر آیا۔ دراصل اس سے ایک دن قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ڈیلسی روڈریگز سے بات چیت ہوئی ہے اور وہ امریکہ کی شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی جانب سے کی گئی حالیہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک اور جارحانہ اقدام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کو مجروح کرتا ہے۔

وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کارروائی کی گئی، اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے خودمختار ملک کے خلاف زبردستی اور اس کے صدر کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

کملا ہیرس نے واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ کی اس کارروائی سے امریکہ نہ تو زیادہ محفوظ ہوگا، نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ انہوں نے لکھا کہ اگرچہ مادورو ایک آمر ہیں، لیکن اس طرح کا قدم سراسر بے وقوفانہ اور قانون کے خلاف ہے۔

امریکہ کی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ آف جسٹس نے ہفتہ کی دیر رات نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو ملک کی عبوری صدر مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک میں استحکام آنے تک امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کے انتظامی امور سنبھالے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیاسی بے چینی کو روکنا، معاشی نظام کو بحال کرنا اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ملک کو ایک محفوظ اور ذمہ دار قیادت کی طرف منتقل کیا جا سکے۔

امریکی حملے کے بعد ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مادورو کو پہلے ہی خود سپردگی کی وارننگ دی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل مادورو سے ان کی بات چیت ہوئی تھی، جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ انہیں سرنڈر کرنا ہوگا۔

اچانک دھماکوں کے باعث عوام میں اس قدر خوف پھیل گیا کہ لوگ کنفیوژن اور غیر یقینی صورتحال کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ دھماکوں کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ ان تصاویر اور ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

ایرانی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے دو صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 13 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔