امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔
نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیریبین ملک کیوبا کو سخت دھمکی دیتے ہوئے الٹی میٹم جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر کیوبا نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہ کیا تو اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
بہت دیر ہونے سے پہلے ڈیل کر لو
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’وینزویلا سے ملنے والی ان کی لائف لائن اب کاٹی جا رہی ہے۔ امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کر لو، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے۔ زیرو! اب کچھ نہیں ملے گا۔ اب کیوبا کو نہ تیل ملے گا اور نہ ہی پیسہ—زیرو!‘‘ اس اعلان کے فوراً بعد ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ’’میں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ بہت دیر ہونے سے پہلے ڈیل کر لو۔‘‘
کیوبا کی معیشت پر براہ راست حملہ
ٹرمپ کے اس بیان کو محض دھمکی نہیں بلکہ کیوبا کی معیشت پر براہ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی دہائیوں سے پابندیوں کا سامنا کرنے والا کیوبا اپنی توانائی کی ضروریات اور معاشی بقا کے لیے وینزویلا سے ملنے والے سستے تیل اور مالی امداد پر انحصار کرتا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکہ اب وینزویلا کے تیل کی برآمدات کو کنٹرول کر رہا ہے، جس کے باعث کیوبا تک پہنچنے والی سپلائی چین کو منقطع کرنا امریکہ کے لیے آسان ہو گیا ہے۔ اسی تناظر میں ٹرمپ کی جانب سے ’زیرو‘ اور ’لائف لائن کاٹنے‘ کی بات کی جا رہی ہے۔
امریکہ کی کیوبا کو جھکانے کی کاشش
امریکہ کی خواہش ہے کہ کیوبا میں اقتدار کی تبدیلی ہو یا پھر وہ مکمل طور پر اس کے سامنے جھک جائے۔ اس کی تصدیق ٹرمپ کی دوسری پوسٹ سے بھی ہوتی ہے، جس میں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو کیوبا کی ’کمان‘ سونپنے کی بات کہی ہے۔ اس کی وجہ روبیو کے کیوبا سے خاندانی تعلق کو بتایا گیا ہے، کیونکہ وہ کیوبا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔
کیوبا کے صدر ہوں گے مارکو روبیو
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کلف اسمتھ نامی صارف کی 8 جنوری کی ایک پوسٹ ری شیئر کی، جس میں لکھا تھا، ’’مارکو روبیو کیوبا کے صدر ہوں گے،‘‘ اور اس کے ساتھ ہنستے روتے ایموجی بھی لگایا گیا تھا۔
صارف کے 500 سے بھی کم فالوورز
اس ری پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا، ’’مجھے تو یہ اچھا لگ رہا ہے!‘‘ اس صارف کے بایو میں خود کو ’’کنزرویٹو کیلیفورنین‘‘ بتایا گیا ہے اور اس کے 500 سے بھی کم فالوورز ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

