Bharat Express DD Free Dish

DMK

وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے مدورانتکم میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کی عوام سے کہا کہ تمل ناڈو اب تبدیلی چاہتا ہے اور ڈی ایم کے کی بدانتظامی اور کرپشن سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اور ڈی ایم کے حکومت کے جانے کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔

انڈین ملمس فارسول رائٹس کے صدر محمد ادیب نے اس موقع پر ملک کے موجودہ حالات اور خاص طور پر وقف املاک سے متعلق درپیش چیلنجز کا تفصیلی ذکرکیا۔ ملاقات کے دوران آئی ایم سی آرکے ٹرسٹی اور خزانچی ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی اور سینئر صحافی انظرالباری بھی موجود تھے۔

ڈی ایم کے اور اس کی اتحادی جماعتوں نے مدراس ہائی کورٹ کے جج جی آر سوامیناتھن کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی مانگ کی ہے۔ 120 اراکینِ پارلیمنٹ کے دستخطوں کے ساتھ لوک سبھا اسپیکر کو نوٹس جمع کرایا گیا ہے۔

تمل ناڈوکے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے پیغمبر اسلام کے 1500ویں یوم پیدائش کے موقع پرایک تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ڈی ایم کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے وقف ایکٹ، شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)، تین طلاق اورفلسطین جیسے مسائل پربھی توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ’’اگر مسلمانوں کوکوئی مسئلہ درپیش ہے، توسب سے پہلی سیاسی جماعت جوان کی مدد کو آتی ہے وہ ڈی ایم کے ہے۔‘‘

ڈی ایم کے کے ترجمان ٹی کے ایس ایلنگوون نے آر ایس ایس اور اس کی تاریخ پر سوال اٹھایا اور تنظیم کو جدوجہد آزادی کے خلاف اور مہاتما گاندھی کے قتل سے جوڑا۔ ایلنگوون نے کہا، ’’آر ایس ایس آزادی کی جدوجہد کا حصہ نہیں تھا۔ وہ آزادی کے خلاف تھے اور اس نے اس کے لیے کوئی قربانی نہیں دی تھی۔ اس کے برعکس، آر ایس ایس پر مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد پابندی لگا دی گئی تھی۔‘‘ 

امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں بی جے پی، اے آئی اے ڈی ایم کے اور دیگر اتحادیوں کی حکومت بنے گی۔

اس سے قبل گذشتہ روز تمل ناڈو سے ہی معروف اداکار اور حال ہی میں راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہونے والے کمل ہاسن نے بھی پی ایم مودی سے ملاقات کی تھی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو مدورائی، تمل ناڈو میں منعقدہ ایک بہت بڑی عوامی میٹنگ میں ریاست کی ڈی ایم کے حکومت اور وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

کئی ادبی ایوارڈز سے سرفراز رقیہ ملک عرف کَوِگنر سلمہ عصری تمل ادب کا ایک بڑا نام ہے۔ ملک کو اپنی نظموں اور ناولوں کے لیے جانا جاتا ہے، جو صنف، شناخت اور سماجی انصاف کے موضوعات سے متعلق ہیں۔ فہرست میں ان کی شمولیت ڈی ایم کے کی ثقافتی نمائندگی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

کیرالہ کے وزیر اعلی پینارائی وجین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’جمہوریت کی فتح‘ اور ’گورنروں کے ذریعہ قانون سازی کے اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف انتباہ‘ قرار دیا۔