Bharat Express DD Free Dish

DMK

سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ریاست کی دو بڑی حریف جماعتیں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، ممکنہ طور پر ایک اتحاد قائم کر سکتی ہیں تاکہ ٹی وی کے کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ اگر یہ اتحاد حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اسے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت تصور کیا جائے گا۔

انتخابات میں اسٹالن کو ذاتی طور پر بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ وہ اپنی روایتی کولاتھور نشست سے شکست کھا گئے، جہاں انہیں وی ایس بابو نے ہرایا۔ یہ نتیجہ ریاستی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کسی موجودہ وزیر اعلیٰ کی اپنی نشست سے شکست ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

ابتدائی رجحانات کے بعد ڈی ایم کے کے حامی مایوسی کے عالم میں پارٹی دفتر سے واپس لوٹتے نظر آئے، جبکہ ٹی وی کے کی بڑھتی ہوئی برتری نے ریاست کی سیاست میں ایک نئے دور کی نشاندہی کر دی ہے۔ تاہم حتمی نتائج آنے تک صورتحال میں تبدیلی کا امکان برقرار ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سرگرم ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کے کم از کم پانچ سینئر اراکین پارلیمنٹ مل کر ایک نیا اور جامع نوٹس تیار کر رہے ہیں، جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دلائل اور نئے الزامات شامل کیے جائیں گے۔

آج خصوصی پارلیمانی اجلاس میں وزیر قانون ارجن رام میگھوال آئینی ترمیم اور حدبندی بل پیش کریں گے، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ یونین ٹیریٹریز سے متعلق ترمیمی بل ایوان میں لائیں گے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک طلب کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کیا جا سکے۔

روڈ شو کے دوران سڑکوں پر لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا، جس میں نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ راستے بھر لوگوں نے وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا اور جوش و خروش کا اظہار کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اجتماع اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

وزیراعظم مودی نے اتوار کو پوڈوچیری میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ جماعتیں پوڈوچیری کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ اب ڈبل انجن حکومت کی ترقیاتی کاموں کا جشن منانا ضروری ہے۔

تمل ناڈو میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس اور ڈی ایم کے کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کو لے کر غیر یقینی صورتحال گہری ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے اس معاملے پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں اتحاد کے مستقبل کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

تمل ناڈو میں ڈی ایم کے–کانگریس اتحاد کے اختلافات پر بی جے پی نے شدید حملہ کیا ہے۔ پارٹی ترجمان شاہنواز حسین نے کانگریس کو ’ڈوبتا ہوا جہاز‘ قرار دیتے ہوئے ڈی ایم کے کو اس سے دور رہنے کی نصیحت دی ہے۔