Delhi Bus Gang-Rape: سلیپر بس میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا معاملہ، راہل گاندھی نے دہلی اور یوپی پولیس کی جواب دہی پر اٹھائے سوال
راہل گاندھی نے مزید سوال کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نظام کو درست کرنے سے پہلے مزید کتنی خواتین اور لڑکیوں کو ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت والی دہلی پولیس اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی اتر پردیش پولیس کی جواب دہی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا اس معاملے میں کسی کی جواب دہی طے ہوگی؟ ان کے مطابق، ’’بالکل نہیں، اس جرم پر بھی پردہ ڈال دیا جائے گا۔‘‘
Delhi Bus Gang-Rape:دہلی پھرہوئی شرمسار، سلیپر بس میں16سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری، ڈرائیور اور کنڈکٹر گرفتار
پولیس کے مطابق ڈرائیور اور کنڈکٹر نے طالبہ کو نوئیڈا سیکٹر-63 جانے کی بات کہہ کر بس میں بٹھا لیا۔ الزام ہے کہ بس چلنے کے کچھ دیر بعد کنڈکٹر نے طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا حرکت شروع کردی۔ طالبہ کے مطابق اس کے بعد ڈرائیور اور کنڈکٹر نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور مخالفت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
Umar and Imam’s bail was suspended:دہلی پولیس نے پھر کی عمرخالداورشرجیل امام کی ضمانت عرضی کی مخالف،عدالت کوگمراہ کرنے کی کوشش کا لگایا الزام
سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت ایک بار پھر اٹک گئی ہے۔ دونوں کی ضمانت درخواستوں کی دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ان کی ضمانت کی سخت مخالفت کی ہے۔ پولیس نے دونوں کی نئی ضمانت درخواستوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Family alleges harassment by husband: تین ماہ کی حاملہ نازیہ خانم نے خودکشی کی، سسرال پر ذہنی و جسمانی اذیت دینے کا الزام
ایف آئی آر کے مطابق 21 اگست کی صبح تقریباً چار بجے نازیہ کے میکے والوں کو فون کرکے اس کی موت کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملنے کے بعد اہل خانہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ خاندان نے نازیہ کی موت پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ممکن ہے اسے سسرال والوں نے قتل کیا ہو اور بعد میں واقعے کو خودکشی کا رنگ دے دیا گیا ہو۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرارپروفیسرمہتاب عالم رضوی کی حمایت میں اتری ٹیم، 6 افراد کے خلاف ایف آئی آرکا مطالبہ، یہاں جانئے پورا معاملہ
وفد نے شکایت کے ساتھ مبینہ قابل اعتراض پوسٹس کے اسکرین شاٹس، مبینہ جعلی سرکلرز، مبینہ غیرمجاز چندہ جمع کرنے سے متعلق ریکارڈ اور نامزد افراد کے خلاف سابقہ تادیبی احکامات سمیت مختلف دستاویزات بھی پیش کیں۔ مشترکہ شکایت میں مبینہ ہتکِ عزت، مجرمانہ سازش، شہرت کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے جعل سازی اور دانستہ توہین سے متعلق متعلقہ فوجداری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے تحت ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جنترمنتر پرریزرویشن کے خلاف احتجاج سے متعلق پولیس الرٹ، آج بھی بڑی تعداد میں مظاہرین کے پہنچنے کی امید
دہلی کے جنتر منتر پر آج بھی رویزرویشن کی مخالفت میں بھیڑ جمع ہوسکتی ہے۔ ایسے میں دہلی پولیس الرٹ پر ہے۔ اس سے پہلے جمعہ کے روز ریزرویشن مخالف بھیڑ دیکھنے کو ملی تھی۔
Nursing Student: گنگارام اسپتال کے ہاسٹل میں نرسنگ طالبہ کی موت، پھندے سے لٹکی ملی لاش
واقعے کے بعد کرائم ٹیم نے ہاسٹل کے کمرے کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ پولیس کی جانب سے موقع سے ملنے والی اشیا اور دیگر شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ واقعے سے قبل طالبہ کی سرگرمیاں کیسی تھیں اور آیا اس نے کسی شخص سے کوئی ایسی بات شیئر کی تھی جس سے اس کی ذہنی یا جذباتی کیفیت کا اندازہ ہوسکے۔
Rahul Gandhi Dharna at Parliament Street Police Station: راہل گاندھی کے سامنے جھکی دہلی پولیس، پیلیٹ گن معاملے میں 31 دن بعد درج ہو رہی ہے ایف آئی آر
کانگریس لیڈر راہل گاندھی اورکانگریس لیڈران کے دھرنے کے بعد دہلی پولیس پیلیٹ گن معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے جا رہی ہے۔ لیڈران نے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
Jantar Mantar Protest: پیلٹ گن سے ٹیئرگیس تک، جنتر منتر احتجاج پر سپریم کورٹ نے بنائی کمیٹی، پولیس کارروائی کی ہوگی جانچ
کمیٹی میں پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکرجھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندرکور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے ریٹائرڈ ڈائریکٹرجنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ڈاکٹر ایل آربشنوئی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے تحاشہ استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔
Parliament March Was Illegal: پارلیمنٹ مارچ غیر قانونی تھا، حالات بگڑنے کے بعد ہی طاقت کا استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ میں دہلی پولیس کا بیان
دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں کہا کہ جنتر منتر کے آس پاس تقریباً 30 ہزار افراد موجود تھے، بھیڑ 3 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی اور اسے قابو میں رکھنے کے لیے 5 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے





