Bharat Express DD Free Dish

Delhi Police

حال ہی میں پولیس کی ایک خصوصی ٹیم، جس کی قیادت انسپکٹر پکھراج سنگھ کر رہے تھے، نے اس پرانے کیس کی دوبارہ جانچ شروع کی۔ اے ایس آئی پردیپ اور ہیڈ کانسٹیبل نریندر کی اطلاع پر ٹیم نے تکنیکی نگرانی اور مقامی خفیہ معلومات کی مدد سے ملزم کی لوکیشن کا پتہ لگایا۔

اس معاملے پر ابھی تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی آفیشیل ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے طلبہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ایس ایف آئی نے اپنے بیان میں یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی اجازت دینا ’’براہِ راست اشتعال انگیزی‘‘ ہے۔ 

عشرت جہاں کو 26 فروری 2020 کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 14 مارچ 2022 کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ دہلی پولیس نے اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانونی اصولوں کے منافی اور کئی خامیوں پر مبنی ہے۔

احتجاج کے دوران بی جے پی خواتین اراکین پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہی تھیں۔ جن لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ان میں مرکزی وزیرمملکت رکشا کھڈسے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج اور کمل جیت سہراوت شامل ہیں۔

عازمین حج کی پروازوں سے پہلے انتظامات اورسہولیات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے لئے افسران کی طرف میٹنگوں کا دور چل رہا ہے۔ دہلی حج کمیٹی کے اراکین نے بھی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 کی مہم کے آخری دن شدید سیاسی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایک دن پہلے، کانگریس پارٹی نے وزیراعلی ہیمنتا بسوا سرما اوران کی اہلیہ کے خلاف سنگین الزامات لگائے تھے۔ اگلے ہی دن منگل کوآسام پولیس اوردہلی پولیس کانگریس لیڈرپون کھیڑا کے دہلی واقع رہائش گاہ پرپہنچی۔ پون کھیڑا نے ہیمنتا بسوا شرما کی بیوی پرتین پاسپورٹ رکھنے کا الزام لگایا تھا۔

دہلی اسمبلی کا دروازہ توڑکرکارکے ساتھ عمارت میں داخل ہونے والے ملزم کو پولیس نے گرفتارکرلیا ہے۔ ڈرائیورسمیت تین افراد کوگرفتارکرلیا گیا۔ ملزم سے گاڑی بھی برآمد کرلی گئی۔ اسمبلی میں واقعہ کے بعد دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا خود جائے واقعہ پرپہنچے۔

دہلی اسمبلی میں سیکورٹی میں بڑی کوتاہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اسپیکرکی گاڑی پرسیاہی پھینکی گئی۔ پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔ اس پورے معاملے کے بعد سیکورٹی سسٹم پرسوال اٹھنے لگے ہیں۔

اس سے قبل 23 فروری کو دہلی پولیس نے اس معاملے میں آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس اب ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے کہ آیا وہ کسی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے یا نہیں۔

پولیس نے علاقے کے مختلف راستوں پر تقریباً دس کلومیٹر کے دائرے میں پانچ سو سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی مخبروں اور ذرائع کی مدد بھی حاصل کی گئی۔ مسلسل کوششوں کے بعد پولیس نے پہلے چھ نابالغوں کو حراست میں لیا اور ان کے قبضے سے لوٹی گئی موٹر سائیکل برآمد کر لی۔