Bharat Express DD Free Dish

Delhi MCD

دارالحکومت کے تمام 12 زونوں میں بڑے پیمانے پر کارروائی، 33 جائیدادوں کو منہدم کیا گیا، 5 کو سیل اور 29 معاملات میں وجہ بتاؤ نوٹس بھی  جاری کیا گیا۔

ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر دہلی میں چل رہے پی جی اور ہاسٹل کا آڈٹ کرے۔ ایم سی ڈی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ پی جی کے لیے کوئی ضابطہ یا نظام موجود ہے یا نہیں اور ان پی جی و ہاسٹل میں کتنے طلبہ رہ رہے ہیں۔ عدالت نے دہلی یونیورسٹی سے بھی معلومات طلب کی ہیں کہ دہلی سے باہر کے کتنے طلبہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ان کے لیے کتنے ہاسٹل دستیاب ہیں۔

ایم سی ڈی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1957 میں بڑے اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان ترامیم کے تحت چھوٹی اور تکنیکی خلاف ورزیوں پر فوجداری مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے۔

وہ آئی اے ایس افسر سنجیو کھیروار جو کتے کو گھمانے کے لیے پوری اسٹيڈیم کو خالی کرانے کے واقعے کی وجہ سے خبروں میں آئے تھے، اب ایک بار پھر نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہیں دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کا نیا کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے 12 وارڈوں میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں عام آدمی پارٹی (عاپ) نے 3 وارڈ جیت کر اپنی موجودگی پھر مضبوط کی ہے۔ نتائج کے بعد دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اور عآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی کی عوام کا اعتماد ایک بار پھر تیزی سے عام آدمی پارٹی کی طرف لوٹ رہا ہے۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ ایم سی ڈی کے آئندہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کے لیے تمام 12 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا بنیادی ہدف دہلی کے دیرینہ شہری مسائل کو حل کر کے ایک ”ترقی یافتہ، صاف اور سرسبز دہلی“ تعمیر کرنا ہے۔

دہلی کی سی ایم آتشی نے بھی عآپ کی اس جیت پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دلت مخالف بی جے پی نے ایک سازش رچی اور میئر کے انتخابات میں تاخیر کی۔ لیکن ایک بار پھر بابا صاحب کے آئین کی جیت ہوئی ہے۔

ایم سی ڈی میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی دونوں ہی اس الیکشن میں کامیابی کے حصول کے لئے کوشاں ہے ۔ اس کے لیے دونوں جماعتوں نے اپنی اپنی  حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

میونسپل کارپوریشن کے افسر نے کہا کہ اس طرح کی مزید کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے مزید معاملات سامنے آنے کا امکان ہے، خاص طور پر شمال مغربی دہلی کے رٹھالا علاقے میں۔

مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے کہا کہ وہ رانی لکشمی بائی کی مورتی کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں بلکہ عیدگاہ کی زمین کو بچانا چاہتے ہیں۔ دہلی وقف بورڈ نے ایک حلف نامہ دے کر انکار کیا تھا کہ اس کے پاس شاہی عیدگاہ کے قریب زمین ہے۔