Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت سے گزارش کی کہ عدالت ان تمام عرضداشتوں کودہلی ہائی کورٹ کومنتقل کرسکتی ہے۔ منسٹری آف براڈ کاسٹنگ کے فیصلے کو ہم وہاں چیلنج کریں گے۔ فلم پروڈیوسرکی نمائندگی کرنے والے وکیل گوروبھاٹیا نے کہا کہ یہ جوعدالت میں ہورہا ہے نہایت عجیب ہے، ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے۔ میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں، لیکن مولانا ارشد مدنی فلم پراسٹے کی گزارش کیسے کرسکتے ہیں۔

فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند صدرمولانا ارشد مدنی نے آج کی عدالتی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اطمینان کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم توحتمی فیصلے کے منتظر تھے، لیکن پورے دن تک چلی بحث کے بعد اس کا جو ماحصل سامنے آیا ہے، وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ قابل اعتراض مناظرکوہٹائے جانے کے بعد بھی اس فلم میں اس طرح کا مواد اب بھی موجود ہے، جوہمارے معاشرے میں منافرت کا زہرگھول سکتا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے فروری 2020 کے دہلی فسادات میں سازش کرنے سے متعلق کیس کے ملزم شاداب احمد کی درخواست ضمانت پراپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یواے پی اے کے تحت گرفتار شاداب پرشہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہروں کے دوران فسادات بھڑکانے کا الزام ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سخت تبصرہ کیا ہے۔ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظر ہٹا دیئے گئے۔ سینسر بورڈ کے وکیل نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے اطمینان کا اظہار کیا۔

سیلبی کے وکیل نے دلیل دی تھی کہ مرکز کا یہ اقدام انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے اور طیارہ سیکورٹی قوانین کے تحت طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ سیلبی کے وکیل نے کہا کہ سول ایوی ایشن سیکیورٹی بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کو سزا سے قبل درخواست گزاروں کو سننے کا موقع دینا چاہیے تھا۔

جیکولین کا کہنا ہے کہ انہیں اس کیس میں جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سکیش چندر شیکھر اور ادیتی سنگھ نے اس کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ جیکولین کا کہنا ہے کہ وہ کبھی سکیش کے ساتھ رشتے میں نہیں تھیں۔ انہوں ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈی ڈی اے کی جانب سے عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ خسرہ نمبر 279 سے متعلق انہدامی کارروائی کا حکم سپریم کورٹ سے حاصل کیا گیا ہے اور صرف اسی مخصوص خسرہ نمبر پر موجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک فرد نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جائیداد کا تعلق خسرہ نمبر 279 سے نہیں ہے، اس کے باوجود ڈی ڈی اے نے اسی خسرہ نمبر کے تحت اس کے خلاف ڈیمولیشن نوٹس جاری کر دیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس میں مجوزہ ڈی ڈی اے کی بلڈوزر کارروائی پرروک لگا دی ہے۔ اس سے ایک درجن سے زیادہ عرضی گزاروں کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کیا ہے اور سبھی عرضی گزاروں کی درخواست پر10 جولائی کو سماعت ہوگی۔