Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

یہ حکم اس وقت آیا ہے جب دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے انہدامی کارروائی کو روکنے کی کسی بھی آفیشیل یقین دہانی سے انکار کر دیا تھا۔

جامعہ نگرکے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے سینچائی محکمہ کو مرادی روڈ، خضربابا کالونی، جامعہ نگر، اوکھلا میں خسرہ نمبر 277 میں واقع ان کی متعلقہ جائیداد کومنہدم کرنے سے روکنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا تھا۔دراصل،  اترپردیش سنچائی محکمہ نے علاقے میں کئی دوکانوں اور مکانوں پرغیرقانونی تعمیرات کا دعویٰ کرتے ہوئے  نوٹس لگادیا گیا تھا اور 5 جون تک خالی کرنے کو کہا تھا۔

فوڈ ریگولیٹری باڈی نے جون 2024 میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ پھلوں کے جوس کا پروڈکشن قواعد کے مطابق کیا جائے۔ کمپنیوں کو اپنے پیکٹوں اور اشتہارات سے ’100 فیصد پھل کا رس‘ جیسے دعوے ہٹا دیں۔ اس سے پہلے، FSSAI نے اپریل میں دہلی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ڈابر کا یہ دعویٰ کہ اس کے پھلوں کے مشروبات ’100 فیصد‘ پھلوں سے بنتے ہیں، قوانین کے خلاف ہے۔ یہ صارفین کو گمراہ کرنے والی اصطلاح ہے۔

جامعہ نگر کے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے اترپردیش سنچائی محکمہ کی انہدامی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے میں جامعہ نگر کے لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اگلی سماعت تک کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے ہتک عزت کے مقدمے میں مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تشار راؤ گیڈیلا کی ڈویژنل بنچ نے مفاد عامہ عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا اور اسے پوری طرح سے تقسیم کرنے والا عمل بتایا۔

انڈین ریسلنگ ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کو پاکسو ایکٹ کے تحت چل رہے کیس میں بڑی راحت ملی ہے۔

عدالت نے یہ عبوری حکم انجمن معینیہ فخریہ چشتیہ خدام خواجہ صاحب سیدزادگان درگاہ شریف، اجمیر، راجستھان اور ایک اور رجسٹرڈ سوسائٹی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد دیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی شہریت تنازعہ سے متعلق عرضی خارج کردی گئی ہے۔ عدالت نے عرضی گزارکو نظر ثانی کی اپیل کرنے کی اجازت دی ہے۔

عدالت نے رام دیو کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا تھا، جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ مستقبل میں ہمدرد کے خلاف کوئی قابل اعتراض بیان، اشتہار یا سوشل میڈیا پوسٹ جاری نہیں کریں گے۔ اس کے لیے عدالت نے انہیں ایک ہفتے کا وقت دیا تھا۔