Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

دھمکی ملنے کے فوراً بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ، پولیس فورس، اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں دہلی ہائی کورٹ کے احاطے میں پہنچ گئیں۔ ہائی کورٹ کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے اور ہر کونے کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔

پراسیکیوشن کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ ’’خود رو‘‘ یا اتفاقیہ فسادات کا نہیں بلکہ ’’منصوبہ بند، بدنیتی پر مبنی اور گہری سازش‘‘ کا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر بھارت کو بدنام کرنا تھا۔

دہلی یونیورسٹی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کا ریکارڈ ایک اعتماد کی حیثیت رکھتا ہے اور عوامی مفاد کے بغیر محض تجسس کی بنیاد پر کوئی بھی ذاتی معلومات RTI قانون کے تحت حاصل نہیں کر سکتا۔

وزیراعظم-وزیراعلیٰ سے متعلق بل پراروند کیجریوال نے سخت ردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی سازش کے تحت جھوٹے معاملات میں پھنسا کر جب مرکزنے مجھے جیل بھیجا تو میں نے جیل سے 1600 دنوں تک حکومت چلائی۔

مئی 2022 میں عدالت نے یاسین ملک کو مجرم قرار دیا تھا۔ مختلف دفعات کے تحت قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد ایک خصوصی عدالت نے دہشت گردی فنڈنگ کے معاملے میں یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ وہیں، این آئی اے نے ملک کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ فلم سے تمام قابل اعتراض مناظرنہ صرف ہٹا دیئے گئے ہیں بلکہ مرکزی حکومت نے ہمارے اعتراض کو درست ٹھہراتے ہوئے کئی دوسرے مناظر کو بھی فلم سے نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب فلموں میں مسلمانوں کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کا ایک ٹرینڈ سا چل پڑا ہے۔

گزشتہ دنوں فلم کے پروڈیوسرامت جانی کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن پرسپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس جوئی مالیا باگچی نے سماعت کی تھی اوراس مقدمہ کودوبارہ دہلی ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔

داخلی تحقیقاتی کمیٹی نے جسٹس ورما کو دہلی کی رہائش گاہ سے نقدی کی وصولی کے معاملے میں بدعنوانی کا قصوروارپایا تھا۔ یہ واقعہ مارچ میں پیش آیا تھا، جب مبینہ طورپر ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بھاری مقدارمیں جلے ہوئے کرنسی نوٹ ملے تھے۔ اس دوران جسٹس ورما دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس تھے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریر ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پر نظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادر کرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکو ہدایت دی ہے۔

ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں کرنل طاہر مصطفیٰ کی تقرری اس بڑھتی ہوئی ضرورت کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی قیادت کو انتظامی مہارت اور اخلاقیات دونوں کوشامل کرنا چاہئے۔ ہمدرد کمیونٹی، فیکلٹی، طلباء، ریسرچرس اوراسٹاف  نے ان کی تقرری کا مثبت انداز میں خیرمقدم کیا ہے۔