Bharat Express DD Free Dish

Delhi High Court

دہلی ہائی کورٹ نے عصمت دری کے ایک معاملے میں سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹھوس ثبوت کے بغیر محض لفظ ’جسمانی تعلقات‘ کا استعمال جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے سابق این سی بی افسر سمیر وانکھیڑے کو ترقی دینے کے حکم کے سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (سی اے ٹی) کے حکم کو چیلنج دینے والی عرضی میں حقائق کو چھپانے پر مرکزی حکومت پر 20,000 روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی حکومت کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے یہ جرمانہ لگایا ہے۔

عصمت دری کے مبینہ ملزم سمیر مودی کو نچلی عدالت سے ملی ضمانت کے خلاف دائر عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے سمیر مودی کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت 20 نومبر کو کیس کی دوبارہ سماعت کرے گی۔ متاثرہ نے 25 ستمبر کو مودی کی ضمانت کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی اور عدالت نے عرضی پر سماعت کے بعد نوٹس جاری کی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے ٹرانس جینڈر خواتین اور بچوں کو بی این ایس ایکٹ کے تحت متاثرین کے طور پر شامل کرنے کے مطالبے پر مفاد عامہ کی عرضی پر مرکزی حکومت اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔

وانکھیڑے نے الزام لگایا کہ یہ پروجیکٹ جان بوجھ کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ’’نسلی اور تعصب پر مبنی‘‘ انداز میں بنایا گیا ہے۔ ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ کی سیریز The Bads Of Bollywood نے بدنام کیا۔

رحمان نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ اب دہلی ہائی کورٹ کی دو ججوں پر مشتمل بینچ نے اس واحد جج کے حکم کو اصولی طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ججز نے اس معاملے میں یکساں رائے قائم کی ہے اور متنازع حکم کو مزید نافذ نہیں سمجھا جائے گا۔

ملک کی سپریم کورٹ نے آج فروری2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ سازش سے متعلق یواے پی اے کیس میں کارکنوں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اورمیران حیدرکی درخواستوں پرسماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پردہلی پولیس کونوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 7 اکتوبرکوہوگی۔

دھمکی ملنے کے فوراً بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ، پولیس فورس، اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں دہلی ہائی کورٹ کے احاطے میں پہنچ گئیں۔ ہائی کورٹ کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے اور ہر کونے کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔

پراسیکیوشن کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ ’’خود رو‘‘ یا اتفاقیہ فسادات کا نہیں بلکہ ’’منصوبہ بند، بدنیتی پر مبنی اور گہری سازش‘‘ کا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر بھارت کو بدنام کرنا تھا۔

دہلی یونیورسٹی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کا ریکارڈ ایک اعتماد کی حیثیت رکھتا ہے اور عوامی مفاد کے بغیر محض تجسس کی بنیاد پر کوئی بھی ذاتی معلومات RTI قانون کے تحت حاصل نہیں کر سکتا۔