Bharat Express DD Free Dish

CM Nayab Saini

ہریانہ کے وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی آج اپنی سالگرہ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، مرکزی وزیر نتن گڈکری سمیت کئی سینئر لیڈروں نے انہیں دلی مبارکباد پیش کی۔ قائدین نے وزیراعلیٰ کی قیادت، انتظامی صلاحیتوں اور ریاست کی ترقی کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کی ستائش کی۔

مرکزی شہری ترقی کے وزیر منوہر لال کھٹر نے کہا کہ اس پروجیکٹ پر تقریباً 5,600 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور یہ گروگرام، مانیسر اور فرید آباد کی تیز رفتار ترقی کو یقینی بنائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ہریانہ حکومت بار بار مرکز اور پنجاب سے درخواست کر رہی ہے کہ گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے ریاست میں پینے کے پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے اضافی پانی فراہم کیا جائے۔

ہریانہ میں 5 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں، بی جے پی نے 90 رکنی اسمبلی میں 48 سیٹیں جیت کر ریاست میں تاریخی تیسری بار کامیابی حاصل کی۔ وہیں کانگریس نے 37 سیٹیں جیتی ہیں۔ ہریانہ میں مسلسل تیسری بار بی جے پی کی حکومت بننے کے ساتھ ہی سینی دوسری بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف  لے لیا ہے۔

ہریانہ میں 5 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں، بی جے پی نے 90 رکنی اسمبلی میں 48 سیٹیں جیت کر ریاست میں تاریخی تیسری بار کامیابی حاصل کی۔ وہیں کانگریس نے 37 سیٹیں جیتی ہیں۔ ہریانہ میں مسلسل تیسری بار بی جے پی کی حکومت بننے کے ساتھ ہی سینی دوسری بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔

سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ مرکزی وزیر منوہر لال کھٹر اور انیل وج نے نائب سینی کے نام کی تجویز رکھی اور تمام ایم ایل ایز ان کے نام کو متفقہ طور پر منظور کرتے نظر آئے۔اس کے بعد نائب سنگھ سینی لیجسلیچر پارٹی کے رہنما منتخب ہوگئے۔ اس دوران یہ بھی طے ہوگیا کہ کل یعنی 17 اکتوبر کو نائب سنگھ سینی کی حلف برداری ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کو ایک واٹس ایپ گروپ میں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ یہ واٹس ایپ گروپ ’سومبر راٹھی جولانہ ہلکے‘ کے نام سے ہے۔ کچھ دن پہلے ملزم نے اس گروپ میں لکھا تھا کہ جو بھی ہریانہ کا وزیر اعلیٰ بنے گا، میں اسے اسی طرح گولی ماروں گا جس طرح مہاتما گاندھی کو گوڈسے نے گولی ماری تھی۔

ہریانہ میں کل 90 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ یہاں پرکسی بھی پارٹی کو اکثریت کے لئے 46 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔ یہاں پر 10 سالوں سے بی جے پی کی حکومت ہے۔ اس الیکشن میں کانگریس-بی جے پی میں سخت مقابلہ ہے۔

منشور جاری کرنے کا یہ پروگرام روہتک میں بی جے پی کے میڈیا سینٹر میں منعقد کیا گیا جس میں مرکزی وزراء منوہر لال کھٹر، دھرمیندر پردھان اور راؤ اندرجیت بھی موجود رہے۔

ہریانہ اسمبلی انتخابات سے عین قبل پہلوان ونیش پھوگاٹ اور بجرنگ پونیا آج کانگریس میں شامل ہو گئے۔ اس سے قبل 4 ستمبر کو انہوں نے نئی دہلی میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کی تھی۔