Bharat Express DD Free Dish

Cloudburst

جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے بدرہامہ گاؤں میں بادل پھٹنے سے شدید تباہی مچ گئی۔ اس قدرتی آفت کے باعث ایشمقام-پہلگام شاہراہ بند ہو گئی، جبکہ لنگنائی پل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

حکام کے مطابق ان حادثات میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں ملبے سے زندہ نکالا گیا۔ شدید زخمیوں کو رشی کیش میں واقع آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) منتقل کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ٹیمیں بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ لگاتار ہونے والی موسلادھار بارش کی وجہ سے ندی نالوں کا پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے،

وزیراعلیٰ نے کہا:"میں مسلسل ضلعی انتظامیہ اور آفات سے نمٹنے والے حکام کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ تمام ضروری اقدامات تیزی سے کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور راحت کا کام پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری ہے۔"

جموں کے ڈوڈہ میں بادل پھٹنے سے کئی گھر تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد سے راحت بچاؤ کام جاری ہے۔ علاقے میں بھاری بارش ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ جموں کا دورہ کرنے والے ہیں۔

یہ واقعہ رات تقریباً ایک بجے پیش آیا۔ ملبے کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ ایس ڈی ایم کی رہائش گاہ میں چار فٹ تک ملبہ بھر گیا۔ اس کے علاوہ متعدد مقامی مکانات اور دکانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ آفت کی جگہ پر پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، آئی ٹی بی پی، فوج، فائر بریگیڈ اور ریونیو کی ٹیمیں امدادی اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔

اس سے قبل منگل کو وزیراعلیٰ نے اس حادثے کے سلسلے میں اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت ہر شہری کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

دھَرالی اور آس پاس کے متاثرہ علاقوں میں 108 ایمولینس سروسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ان خدمات کے ذریعے زخمیوں کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا، انہیں قریبی اسپتالوں تک پہنچانا اور حساس طبقات کو بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے۔

اترکاشی کے دھرالی علاقے میں ہوئی تباہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانی کی رفتار اور ملبے کے دباؤ نے لمحوں میں سب کچھ تہس نہس کر دیا۔