اتراکھنڈ کے ردرپریاگ اور چمولی اضلاع میں جمعہ کے روز بادل پھٹنے کے واقعات نے تباہی مچا دی۔ شدید بارش اور پہاڑوں سے آنے والے ملبے نے کئی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی اور ملبہ گھروں میں داخل ہو گیا، جبکہ کئی مقامات پر سڑکیں اور پل بہہ گئے۔چمولی ضلع کے دیوال علاقے کے موپاٹا گاؤں میں بادل پھٹنے کے باعث دو افراد، تارا سنگھ اور ان کی اہلیہ لاپتہ ہو گئے ہیں، جب کہ وکرم سنگھ اور ان کی بیوی کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ امدادی ٹیمیں جے سی بی مشینوں کی مدد سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں تاکہ متاثرہ افراد تک جلد رسائی حاصل کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کا بیان
जनपद रुद्रप्रयाग के तहसील बसुकेदार क्षेत्र के अंतर्गत बड़ेथ डुंगर तोक और जनपद चमोली के देवाल क्षेत्र में बादल फटने के कारण मलबा आने से कुछ परिवारों के फंसे होने का दुःखद समाचार प्राप्त हुआ है। स्थानीय प्रशासन द्वारा राहत और बचाव कार्य युद्धस्तर पर जारी है, इस संबंध में निरंतर…
— Pushkar Singh Dhami (@pushkardhami) August 29, 2025
وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل افسران سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے ردرپریاگ کے بسوکی دار علاقے کے بڑےٹھ ڈونگر توک اور چمولی کے دیوال علاقے میں بادل پھٹنے سے متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا:”میں مسلسل ضلعی انتظامیہ اور آفات سے نمٹنے والے حکام کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ تمام ضروری اقدامات تیزی سے کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور راحت کا کام پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری ہے۔”
مزید نقصانات اور خطرناک صورتحال
چمولی کے کالیشور علاقے میں پہاڑ سے آئے ملبے نے کئی گھروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک گاؤشالہ بھی دب گئی ہے جس میں 15 سے 20 مویشیوں کے پھنسنے کا خدشہ ہے۔شدید بارش کے باعث جوشی مٹھ، نارائن بگڑ، تھرالی، نندن نگر، کرن پریاگ، غیرسین اور دشولی علاقوں میں ندی نالے ابل پڑے ہیں۔
الکنندا ندی خطرے کے نشان سے اوپر
#WATCH | पौड़ी गढ़वाल, उत्तराखंड: लगातार बारिश के बीच अलकनंदा नदी उफान पर बह रही है। बाढ़ के खतरे को देखते हुए प्रशासन अलर्ट मोड पर है। pic.twitter.com/J8HGYKsGOh
— ANI_HindiNews (@AHindinews) August 29, 2025
رپورٹس کے مطابق ردرپریاگ میں الکنندا اور مندکنی ندیوں کے پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ الکنندا ندی نے خطرے کے نشان کو عبور کر لیا ہے اور اس کا پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو چکا ہے۔ انتظامیہ نے کئی گھروں کو احتیاطاً خالی کروا لیا ہے۔صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی ہے کہ ردرپریاگ کا تاریخی ہنومان مندر ندی کی دھارا میں بہہ گیا ہے۔ اسی دوران کیدار گھاٹی کے لاوارا گاؤں میں ایک پل بھی تیز بہاؤ میں بہہ گیا، جبکہ چھیانا گڈ اور ملحقہ علاقوں میں حالات انتہائی نازک ہیں۔
آمد و رفت مکمل طور پر متاثر
مسلسل موسلا دھار بارش نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ ردرپریاگ-گوری کنڈ، اور رِشی کیش-بدری ناتھ جیسے اہم قومی شاہراہیں ملبے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو چکی ہیں۔ جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ نے سڑکوں کو بلاک کر دیا ہے، اور سینکڑوں گاڑیاں راستے میں پھنسی ہوئی ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق، بارش اس قدر شدید ہے کہ کئی دیہاتوں میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کالی مت گھاٹی اور بیسن-کیدار علاقے میں بھی شدید بارش نے صورتحال کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔اتراکھنڈ ایک بار پھر قدرتی آفات کی زد میں ہے۔ حکومت، انتظامیہ، اور بچاؤ ٹیمیں متحرک ہیں لیکن موسمی حالات نے حالات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


