اتراکھنڈ کے چمولی ضلع کے نندن نگر علاقے میں جمعرات کی صبح چار مختلف مقامات پر بادل پھٹنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے، جن میں دو افراد جاں بحق ہو گئے، پانچ افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا جبکہ چھ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (SEOC) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں تقریباً 45 مکانات اور 15 مویشی خانے تباہ ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق، کنتری لگا فالی میں ملبے تلے دبے چار افراد کو زندہ نکالا گیا جبکہ دھورما گاؤں میں ایک شخص کو ملبے سے بچایا گیا۔
حکام کے مطابق ان حادثات میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں ملبے سے زندہ نکالا گیا۔ شدید زخمیوں کو رشی کیش میں واقع آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) منتقل کیا گیا ہے۔
SEOC کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کنتری لگا فالی اور کنتری لگا سرپانی گاؤں میں ایک ایک لاش برآمد ہوئی ہے، جب کہ ملبے کے ڈھیروں میں چھ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق کنٹری لگا پھلی گاؤں میں تباہ شدہ مکان کے ملبے سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت نریندر سنگھ (38 سال) جب کہ کنٹری لگا سرپانی گاؤں میں ملی لاش کی شناخت جگدمبا پرساد (70 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔ اسی گاؤں سے دو خواتین اور ایک بچے سمیت چار افراد اور دھرما گاؤں سے ایک شخص کو زندہ نکالا گیا۔
مزید افراد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ
SEOC کے مطابق، چھ لاپتہ افراد میں سے چار کنٹری لگا پھلی ، ایک کنٹری لگا سرپانی اور ایک دھرما گاؤں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ نندن نگر کے جن چار علاقوں میں یہ آفات آئی ہیں — کنٹری لگا پھلی، کنٹری لگا سرپانی، سیرا اور دھرما گاؤں، ریاستی دارالحکومت دہرادون سے تقریباً 260 کلومیٹر جب کہ چمولی کے ضلعی صدر مقام گوپیشور سے تقریباً 50 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیں۔
گزشتہ ماہ کے اختتام سے نندا نگر کا کنٹری علاقہ مٹی کے تودے اور گھروں میں دراڑیں پڑنے کے مسئلے سے دوچار ہے، جہاں تقریباً 16 مکانات کو خطرہ لاحق ہونے کے باعث وہاں مقیم 64 افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



