Bharat Express DD Free Dish

Chamoli Cloudburst: اتراکھنڈ کے چمولی میں بادل پھٹنے سے قیامت  برپا، گھروں میں ملبہ داخل، تین افراد لاپتہ، اسکول بند

یہ واقعہ رات تقریباً ایک بجے پیش آیا۔ ملبے کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ ایس ڈی ایم کی رہائش گاہ میں چار فٹ تک ملبہ بھر گیا۔ اس کے علاوہ متعدد مقامی مکانات اور دکانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

چمولی، اتراکھنڈ: ریاست اتراکھنڈ کے ضلع چمولی کے علاقے تھرالی میں رات گئے بادل پھٹنے کے ایک درد ناک  واقعے نے تباہی مچا دی۔ اس قدرتی آفت میں کئی گھروں میں ملبہ داخل ہو گیا، ایس ڈی ایم کی رہائش گاہ سمیت متعدد عمارتیں متاثر ہوئیں، جب کہ تین افراد لاپتہ ہیں، جن میں ایک نوجوان لڑکی اور ایک بزرگ شامل ہیں۔

یہ واقعہ رات تقریباً ایک بجے پیش آیا۔ ملبے کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ ایس ڈی ایم کی رہائش گاہ میں چار فٹ تک ملبہ بھر گیا۔ اس کے علاوہ متعدد مقامی مکانات اور دکانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

حکام کا ردعمل اور امدادی کارروائیاں

ضلعی مجسٹریٹ سندیپ تیواری نے تصدیق کی کہ تھرالی تحصیل میں بادل پھٹنے سے شدید نقصان ہوا ہے، جبکہ ایڈیشنل ڈی ایم ویویک پرکاش کے مطابق دو افراد ملبے تلے دبنے کی اطلاع ہے۔ ان افراد کی تلاش کے لیے امدادی ٹیمیں سرگرم عمل ہیں۔

ایس ڈی آر ایف (ریسکیو فورس) کی ٹیم کو فوری طور پر متاثرہ مقام پر روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ راحت اور بچاؤ کا کام فوری طور پر شروع کیا جا سکے۔

پولیس کی فوری کارروائی

چمولی پولیس نے اطلاع دی ہے کہ تھرالی تھانہ کے تحت آنے والے علاقوں میں شدید بارش اور بادل پھٹنے کے باعث لوگوں کی زندگی متاثر ہوئی۔ پولیس نے رات ہی میں چوکسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

وزیراعلیٰ دھامی کی جانب سے فوری اقدامات کے احکامات

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:”چمولی کے تھرالی علاقے میں رات گئے بادل پھٹنے کی افسوسناک اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ضلع انتظامیہ، ایس ڈی آر ایف، پولیس موقع پر پہنچ کر راحت و بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ میں خود صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہوں اور مسلسل رابطے میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے سب کی خیریت کے لیے دعاگو ہوں۔”

تعلیمی ادارے بند، بازار ویران

حادثے کے بعد علاقے میں اسکولوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور بازاروں میں سناٹا چھا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے احتیاط برتنے اور محفوظ علاقوں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت

اتراکھنڈ جیسے پہاڑی علاقوں میں مون سون کے دوران بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے جیسے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں، جس کے پیش نظر ماہرین نے موسمی الرٹس پر سنجیدگی سے عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read