Bharat Express DD Free Dish

Cloudburst in Kashmir’s Ramban: جموں و کشمیر کے رامبن میں بادل پھٹنے سے شدید تباہی، 3 افراد ہلاک، کئی گھر ملبے تلے دبے

حکام کے مطابق صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ٹیمیں بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ لگاتار ہونے والی موسلادھار بارش کی وجہ سے ندی نالوں کا پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے،

جموں و کشمیر کے رامبن ضلع کے راجگڑھ علاقے میں شدید بارش اور بالائی علاقوں میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں ایک بار پھر فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک 3 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 4 افراد لاپتہ ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق، علاقے میں کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے بعض مکمل طور پر سیلابی پانی میں بہہ گئے۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کا کام انجام دے رہی ہیں تاکہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی ریلیف سینٹرز بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ٹیمیں بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ لگاتار ہونے والی موسلادھار بارش کی وجہ سے ندی نالوں کا پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس پر انتظامیہ نے عوام سے ہوشیار رہنے اور احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔

اگست 2025 میں جموں و کشمیر میں تباہ کن بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ

اگست 2025 کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدید تباہی دیکھنے کو ملی۔ اس مہینے کے دوران ریاست کو بار بار فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ (زمین کھسکنے) کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر جموں کے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔

رپورٹس کے مطابق، پچھلے ہفتے کی شدید بارشوں نے جموں، سانبہ، کٹھوعہ، ریاسی اور ڈوڈہ اضلاع میں تباہی مچائی۔ ان واقعات میں اب تک 36 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف ریاسی اور ڈوڈہ اضلاع میں کم از کم 9 اموات ہو چکی ہیں۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں زمین کھسکنے، ندیوں کے بہاؤ میں اضافہ اور کئی دیہاتوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔

14 اگست کو کشتواڑ میں بادل پھٹنے کا بڑا واقعہ

اس سے پہلے 14 اگست کو کشتواڑ ضلع کے چشوتی گاؤں میں بادل پھٹنے کا ایک اور بڑا واقعہ پیش آیا تھا۔ یہ علاقہ ماتا ویشنو دیوی کی یاترا کے راستے میں واقع ہے اور سطح سمندر سے 9,000 فٹ بلندی پر بسا ہوا ہے۔

اس کلاؤڈ برسٹ میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ کئی افراد زخمی اور لاپتہ ہو گئے۔ شدید فلیش فلڈز نے یاتریوں کے کیمپ، مکانات اور پلوں کو بہا دیا۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ علاقے میں عام بارش ریکارڈ کی گئی تھی، لیکن بادل پھٹنے کے باعث محدود علاقے میں اچانک پانی کا شدید ریلا آیا جس نے سب کچھ تہس نہس کر دیا۔

موجودہ صورتحال پر حکومت اور عوام کی توجہ

حالیہ قدرتی آفات نے ایک بار پھر حکومت اور مقامی انتظامیہ کے لیے چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے آئندہ بھی ایسی شدید بارشیں اور فلیش فلڈز ہو سکتے ہیں، جن سے بروقت اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ مقامی انتباہات پر عمل کریں، محفوظ مقامات پر منتقل ہوں اور غیر ضروری طور پر خطرناک علاقوں کا رخ نہ کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read