Bharat Express DD Free Dish

Chirag Paswan

چراغ پاسوان نے ہفتہ کے روز ریاست کے امن و امان پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ مجھے اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ میں ایسی حکومت کی حمایت کر رہا ہوں جہاں جرائم پوری طرح سے بے لگام ہو گئے ہیں۔ اس پر قابو پانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انتظامیہ مجرموں کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔

ووٹروں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے انتخابات کے بائیکاٹ پر مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ اگر ہمت ہے تو ایک بار یہ لوگ بائیکاٹ کر کے دکھائیں۔ آر جے ڈی ایسی سیاسی پارٹی ہے جس میں اکیلے الیکشن لڑنے کی ہمت نہیں ہے، بائیکاٹ کیا کریں گے؟

مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ پی ایم مودی کا یہ بیان کہ پسماندہ کو ترجیح دی گئی ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ایم مودی سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں۔

جولائی کو لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے صدر اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان کو انسٹاگرام کے ذریعے بم سے اڑانے کی دھمکی ملی تھی۔ اس کے بعد مرکزی وزیر نے محکمہ پولیس کے سینئر افسران کو اس کی اطلاع دی جس کے بعد پولیس نے یہ کارروائی کی۔

چراغ پاسوان نے چھپرا میں منعقد ’نو سنکلپ مہاسبھا‘ سے خطاب کرتے ہوئے بہار کی تمام سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ بہار آتے ہیں اور الیکشن لڑنے کی بات کرتے ہیں تو کئی لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کتنی سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے۔ ایسے میں آج میں اعلان کرتا ہوں کہ میں بہار کی تمام 243 سیٹوں پر الیکشن لڑوں گا۔

سال 2020 میں، چراغ نے ایک راستہ روکنے والا کردار ادا کیاتھا جس نے این ڈی اے میں سمی کرن کو بدل دیا اور جے ڈی یو اور نتیش کمار کی پوزیشن کو کمزور کر دیا۔ ایل جے پی نے 243 میں سے 134 سیٹوں پر مقابلہ کیا اور ووٹوں کی تقسیم کے لیے حکمت عملی کے ساتھ امیدواروں کو زیادہ تر جے ڈی یو کے خلاف کھڑا کیا۔

رام ولاس پاسوان ایک تجربہ کار سیاست دان اور منتظم تھے جنھوں نے بی جے پی، کانگریس اور سوشلسٹ پارٹیوں کی قیادت والی حکومتوں سمیت متعدد حکومتوں میں بطور وزیر خدمات انجام دیں۔

چراغ پاسوان نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان نے تبدیلی کا سفر طے کیا ہے۔ کاروبار کرنے میں آسانی بڑھانے کے لیے کی گئی اصلاحات کی وجہ سے آج صنعتوں کو زیادہ خود مختاری اور پالیسی کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اس جامع تبدیلی کے درمیان، فوڈ پروسیسنگ کا شعبہ جامع ترقی، زرعی صنعتی انضمام اور عالمی شرکت کے ایک موثر ذریعہ کے طور پر ابھرا ہے۔

2020 کے اسمبلی انتخابات میں مہاگٹھ بندھن نے سیوان میں چھ اسمبلی سیٹوں پر قبضہ کیا تھا، جب کہ بی جے پی صرف دو سیٹیں جیت سکی تھی اور جے ڈی یو کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا۔ آر جے ڈی نے تین، سی پی آئی ایم ایل نے دو اور کانگریس نے ایک سیٹ جیتی۔

وقف (ترمیمی) بل کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اسے مسلمانوں پربراہ راست حملہ قراردیا ہے اورالزام لگایا ہے کہ اس سے ان کی جائیدادیں چھین لی جائیں گی۔ اویسی نے دیگرجماعتوں کو خبردارکیا ہے کہ اگروہ بل کی حمایت کرتے ہیں تو مسلمان انہیں معاف نہیں کریں گے۔