Bharat Express DD Free Dish

China

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جاری تنازع نے وسیع تر علاقائی عدم استحکام کے خدشات کو نئے سرے سے جنم دیا ہے۔ افغانستان نے اسلام آباد پر فضائی حملوں اور جوابی کارروائی کا الزام لگایا ہے۔ تاہم، اب تک، سعودی عرب نے عوامی طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی سے گریز کریں اور بات چیت کو ترجیح دیں۔

چین کے سخت رویے اور بڑھتے اقتصادی دباؤ کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’چین کی فکر نہ کرو، سب بہتر ہو جائے گا۔ ہم چین کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو چین کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اس کے خلاف 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ کی جانب سے چین پر عائد کیا گیا یہ نیا ٹیرف یکم نومبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ افسر ذاکر جلالی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’افغان عوام نے تاریخ میں کبھی کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کیا۔ دوحہ معاہدے میں بھی یہ بات طے ہو چکی ہے۔‘‘

ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب شی جن پنگ اور چینی عوام کے لیے باعث فخر ہوگی۔ انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن اسے طنزیہ انداز میں لیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ممالک امریکہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

پی ایم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات کے دوران سرحدی علاقوں میں امن و امان کی بحالی، عوامی روابط کے فروغ، ویزہ سہولت اور کیلاش مانسرور یاترا کی بحالی جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔

وزیر اعظم نے سرحد پر امن و سکون کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات کو دہرایا کہ بھارت منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابل قبول سرحدی حل کے لیے پرعزم ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اجلاس 31 اگست سے 1 ستمبر تک جاری رہے گا، جس میں SCO کے تمام رکن ممالک کے سربراہان سمیت 20 سے زائد دیگر ممالک کے لیڈران اور 10 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان شرکت کریں گے۔

سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں مہارت بڑھانے کے لیے مختلف ہنر مندی کے پروگرام، تربیتی ورکشاپس اور سرٹیفیکیشن کورسز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ٹیلنٹ پائپ لائن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے 85,000 انجینئروں کو جدید سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں تربیت دینے کا پروگرام شروع کیا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز "ہر ممکن کوشش" کے ساتھ امدادی اور بچاؤ آپریشنز کی ہدایت کی اور حکام کو "بدترین حالات" کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔ شدید موسمی حالات، جنہیں ماہرین موسمیاتی تبدیلی سے جوڑتے ہیں، نے چین کے شمالی علاقوں میں بارش کے رجحانات کو بڑھا دیا ہے۔