Bharat Express DD Free Dish

China

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے رفال طیارے کی فروخت روکنے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ فرضی تصاویر وائرل کیں، تاکہ اپنے جے-35 لڑاکا طیارے کو فروخت کیا جاسکے۔

مقامی وقت کے مطابق زلزلہ صبح 6 بجکر 32 منٹ اور 18 سیکنڈ پر آیا۔ فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ زلزلے کے بعد علاقے میں ہلکی خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔

فاکس نیوز نے تفتیشی ایجنسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ ایشلے ٹیلس کے ورجینیا میں موجود ان کے ویانا والے گھر سے 1,000 سے زائد صفحات پر مشتمل انتہائی خفیہ دستاویزات، جن پر "ٹاپ سیکرٹ" اور "کلاسیفائیڈ" لکھا ہوا تھا برآمد کیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جاری تنازع نے وسیع تر علاقائی عدم استحکام کے خدشات کو نئے سرے سے جنم دیا ہے۔ افغانستان نے اسلام آباد پر فضائی حملوں اور جوابی کارروائی کا الزام لگایا ہے۔ تاہم، اب تک، سعودی عرب نے عوامی طور پر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی سے گریز کریں اور بات چیت کو ترجیح دیں۔

چین کے سخت رویے اور بڑھتے اقتصادی دباؤ کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’چین کی فکر نہ کرو، سب بہتر ہو جائے گا۔ ہم چین کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو چین کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اس کے خلاف 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ کی جانب سے چین پر عائد کیا گیا یہ نیا ٹیرف یکم نومبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ افسر ذاکر جلالی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’افغان عوام نے تاریخ میں کبھی کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کیا۔ دوحہ معاہدے میں بھی یہ بات طے ہو چکی ہے۔‘‘

ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب شی جن پنگ اور چینی عوام کے لیے باعث فخر ہوگی۔ انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن اسے طنزیہ انداز میں لیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ممالک امریکہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

پی ایم مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات کے دوران سرحدی علاقوں میں امن و امان کی بحالی، عوامی روابط کے فروغ، ویزہ سہولت اور کیلاش مانسرور یاترا کی بحالی جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔

وزیر اعظم نے سرحد پر امن و سکون کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات کو دہرایا کہ بھارت منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابل قبول سرحدی حل کے لیے پرعزم ہے۔