Bharat Express DD Free Dish

China

معدنی وسائل کی فراہمی، دلائی لامہ کے جانشینی کا مسئلہ، ہند-پاک کشیدگی اور ہندوستان اور چین کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی جیسے اہم موضوعات پر گفتگو متوقع ہے۔

ویزا فری انٹری کا اطلاق صرف سیاحت، کاروباری دوروں، خاندانی ملاقاتوں یا ثقافتی تبادلے کے لیے ہے اور اس میں کام، تعلیم یا صحافتی سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔ سیاحوں کو اپنے سفر کے دوران درست پاسپورٹ رکھنا ہوگا اور بعض صورتوں میں رہائش یا واپسی کے ٹکٹ کا ثبوت دکھانا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح طور پر کہا کہ ہم انہیں نہیں خرید رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا میں چلنے والی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ صرف میڈیا ٹاک ہے، یہ چینی دفاعی فروخت کے حوالے سے اچھی تشہیر ہے۔

اس دورے کو خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے کیوں کہ وادی گالوان (جون 2020) میں پرتشدد تصادم کے بعد یہ جے شنکر کا چین کا پہلا دورہ ہوگا۔

رجیجو کے تبصرے چین کے اس بیان کے بعد سامنے آئے تھے کہ دلائی لامہ کے اگلے کسی بھی جانشین کے لیے چین کی منظوری ضروری ہوگی۔

روہنگیا، این آر سی، سی اے اے  اور شیخ حسینہ کی حوالگی جیسے مسائل پر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ ایسے میں بنگلہ دیش کا ترکیہ اور چین کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا بھارت کو تین طرفہ اسٹریٹجک دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے کہا کہ دلائی لامہ کا ادارہ جاری رہے گا اور صرف گاڈن فوڈرنگ ٹرسٹ (Gaden Phodrang Trust)کو ہی ان کے پیش رو کے انتخاب کا اختیار ہوگا۔

راجناتھ سنگھ نے کہا، "کوئی بھی ملک چاہے کتنا ہی بڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو، اکیلے کام نہیں کر سکتا۔ درحقیقت، عالمی نظام یا کثیرالجہتی کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ قوموں کو اپنے باہمی اور اجتماعی فائدے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

اے ایس پی آئی کی رپورٹ کے مطابق سنکیانگ صوبے میں تقریباً 65 فیصد مساجد کسی نہ کسی طریقے سے متاثر ہوئی ہیں۔ کئی مساجد سے گنبد اور مینار ہٹا دیے گئے ہیں۔

ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ ہندوستان ایس سی او کے بیان سے خود کو الگ کرتا ہے، سوائے اس کے جب وہ خود مختاری کے خدشات کی بنیاد پر چینی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) سے متعلق منصوبوں سے متعلق مسائل پر ہو۔