Bharat Express DD Free Dish

Canada

کینیڈا کے وائٹ ہارس میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی افسر کیلِستا میکلاؤڈ کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد ایمرجنسی کالز ملنی شروع ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ "جھٹکے بہت تیز محسوس ہوئے، سوشل میڈیا پر بھی لوگ بڑی تعداد میں بتا رہے ہیں کہ ان کے گھر ہل گئے۔"

ریسرچ میں 74,000 سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ شرکاء کے ریٹینل اسکین، جینیاتی معلومات اور خون کے نمونوں کا مطالعہ کیا گیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کن لوگوں کی خون کی نلیوں کی ساخت میں فرق ہے اور اس کا ان کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔

آنند سنگاری نے کہا، "کینیڈا میں ہرایک کواپنے گھراورکمیونٹی میں محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے۔ بشنوئی گینگ نے مخصوص کمیونٹیز کو دہشت گردی، تشدد اوردھمکیوں سے نشانہ بنایا ہے۔"

فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کی بات دہرائی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے آسٹریلیا سے جمہوری انتخابات کرانے، مالی اور انتظامی اصلاحات اور تعلیمی نظام میں تبدیلی جیسے وعدے بھی کیے ہیں۔

ریاستہائے متحدہ میں داخل ہونے والے ہندوستانی سامان پر 50 فیصد کا بھاری ٹیرف، جو 27 اگست سے نافذ ہوا ہے، 48 بلین ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔ جن شعبوں پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ اعلیٰ درآمدی محصولات کا نقصان ہو گا ان میں ٹیکسٹائل/کپڑے، جواہرات اور زیورات، جھینگا، چمڑے اور جوتے، جانوروں کی مصنوعات، کیمیکلز، اور الیکٹریکل اور مکینیکل مشینری شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس حادثہ کا جو ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں ایک کار میں بیٹھے کچھ لوگ کیفے کی طرف گولی باری کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ ویڈیو 9 سیکنڈ کا ہے، جس میں 12 راؤنڈ سے زیادہ فائرنگ کی گئی۔

کپل شرما نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، لیکن ان کے کیفے کے سوشل میڈیا پیج پر کمیونٹی سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ واقعہ کینیڈا میں بھارتی ڈائسپورا کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، اور مقامی پولیس اسے ایک ٹارگٹڈ حملہ مان کر تحقیقات کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے گروہ اب بھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور دنیا بھر میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور ان پر عمل درآمد کی کوششوں میں ملوث ہیں۔

پی ایم مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں اہم ہو گیا ہے جب پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ میں ہیں۔ منیر بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں لنچ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ پی ایم مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر بین الاقوامی برادری پائیدار مستقبل کے لیے سنجیدہ ہے تو دنیا کے لیے گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات اور خدشات کو سمجھنا ضروری ہے۔

رائٹر اور پوڈ کاسٹر کشال مہرا نے کہا کہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی طرف سے وزیر اعظم مودی کو جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجنا ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ گزشتہ تین سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے دروازے بند ہیں۔ ایسے میں پی ایم مودی کی آمد سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلیں گے اور پٹری سے اترے ہوئے تعلقات دوبارہ پٹری پر آجائیں گے۔