Bharat Express DD Free Dish

Brij Bhushan Sharan Singh

اس سے قبل پہلوان بجرنگ پونیا نے بھی اپنا پدم شری ایوارڈ واپس کر دیا تھا اور احتجاجاً کرتویہ پتھ کے فٹ پاتھ پر اپنا ایوارڈ چھوڑ دیا تھا۔ اسی وقت ساکشی ملک نے نو منتخب ڈبلیو ایف آئی پینل کے خلاف ایک پریس کانفرنس میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

اولمپک میڈلسٹ ساکشی ملک اور ورلڈ چمپئن شپ میڈلسٹ وینیش پھوگاٹ سمیت کئی ٹاپ ریسلرز نے برج بھوشن کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے ہیں اور اس کیس کی سماعت دہلی ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

بجرنگ پونیا نے پی ایم مودی کو خط لکھ کر پدم شری واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے حوالے سے جب پونیا پی ایم مودی سے ملاقات کے لیے انہیں خط سونپنے جا رہے تھے تو انہیں دہلی پولیس کے اہلکاروں نے روک دیا۔

مجھے نہیں معلوم کہ بجرنگ نے کن حالات میں اپنی پدم شری واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ لیکن اس کی وہ تصویر دیکھ کر میرا اندر ہی اندر دم گھٹ رہا ہے۔ اس کے بعد اب مجھے اپنے ایوارڈز سے بھی بیزاری ہونے لگی ہے۔

ایوارڈ واپس کرنے کے بعد بجرنگ پونیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہنوں اور بیٹیوں کی جنگ لڑ رہے تھے لیکن میں انہیں عزت نہیں دلا سکا۔ اس لیے میں نے اپنا تمغہ یہاں گیٹ پر رکھا ہے۔

دراصل، پرتیک بھوشن سنگھ نے سوشل میڈیا ایکس پر ہاتھ میں بینر پکڑے ایک تصویر پوسٹ کی تھی۔ جس پر لکھا تھا ’’دبدبہ تو ہے، دبدبہ رہے گا‘‘۔ اس کے بعد یہ پوسٹ تیزی سے شیئر ہونے لگی۔

وزارت کھیل کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ نئی باڈی ڈبلیو ایف آئی کے آئین کی پیروی نہیں کرتی ہے۔ ہم نے فیڈریشن کو برطرف نہیں کیا بلکہ اسے اگلے احکامات تک معطل کر دیا ہے۔ انہیں صرف مناسب طریقہ کار اور قواعد پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

برج بھوشن سنگھ نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پہلے دن سے سیاست کی جا رہی ہے۔ سنجے سنگھ بھومیہار ہیں اور میں راجپوت۔ ہم دونوں صرف اچھے دوست ہیں۔

ساکشی ملک نےایک میڈیا چینل کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پہلوانوں کی لڑائی برج بھوشن سے تھی۔ ہم چاہتے تھے کہ فیڈریشن سے اس کا قبضہ ختم ہوجائے ۔

ٹوکیو اولمپکس کے کانسی کا تمغہ جیتنے والے پہلوان بجرنگ پونیا نے جمعہ (22 دسمبر) کو سنجے سنگھ کے ڈبلیو ایف آئی کے صدر بننے کے خلاف احتجاج میں اپنا پدم شری واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔