Bharat Express DD Free Dish

BJP

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پر مشتمل الیکٹورل کالج میں این ڈی اے کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے رادھاکرشنن کی کامیابی تقریباً یقینی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک بھی اپنے امیدوار کے نام پر غور کر رہا ہے اور اس کیلئے 18 اگست کو میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

بی جے پی کے ترجمان اجے آلوک نے کہا کہ گاندھی خاندان خود کو سسٹم سے اوپر سمجھتا ہے، جب کہ لالو خاندان خود کو ایک سسٹم سمجھتا ہے۔ لالو خاندان کا اثر ختم ہو چکا ہے اور گاندھی خاندان میں ابھی بھی کچھ توانائی باقی ہے، وہ بھی بہار کے انتخابات میں ختم ہو جائے گی۔

اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمیشن سے دونوں جگہوں سے دنیش سنگھ کے خلاف الگ الگ نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد مظفر پور کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر دنیش پرساد سنگھ اور ایل جے پی (رام ولاس) کی رکن اسمبلی وینا دیوی کو نوٹس بھی بھیجا ہے۔ نوٹس میں 16 اگست تک جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے اس الیکشن میں دو امیدوار میدان میں تھے اور دونوں کا تعلق بی جے پی سے تھا۔ ایک طرف بی جے پی کے راجیو پرتاپ روڈی اور دوسری طرف سنجیو بالیان تھے۔ اس الیکشن میں کل 743 ووٹ ڈالے گئے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں گے تو انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں کس بات کو لے کر معافی مانگوں؟ کیا میں ملحد ہوں؟ کیا میں خدا کو نہیں مانتا؟ میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ میرے بیان کو غلط طریقے سے توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے جو بالکل غلط ہے۔ ایسے میں معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ یہ مشق پہلی بار نہیں ہو رہی ہے اور سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اسے شروع کیا تھا۔

دریں اثنا امت شاہ نے جانکی ماتا مندر کی ازسرِ نو تعمیر کے سنگ بنیاد رکھنے پر ریاست کے عوام اور رام بھکتوں کو مبارکباد بھی دی۔

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جہوریت میں ہر پارٹی کا اقتدار کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن بی جے پی ایسی پارٹی ہے، جس پر اس کا اثرنہیں پڑتا ہے۔

بدھ کے روزدہلی اسمبلی میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ سابق وزیراعلیٰ آتشی کو ایوان سے باہرنکال دیا گیا۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے بل کی مخالفت کی اوربی جے پی پرتاریخی حقائق کو مسخ کرنے کا الزام لگایا۔ عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا کہ یہ بل پرائیویٹ اسکولوں کے مفاد میں ہے اور عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

بی جے پی لیڈرپرتاپ کٹیہارنے ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیا تھا۔ یہ تنازعہ 28 مارچ 2018 کوراہل گاندھی کے ایک بیان کے بعد شروع ہوا تھا۔ راہل گاندھی نے امت شاہ پرتبصرہ کیا تھا۔