Bharat Express DD Free Dish

BJP

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ توڑ پھوڑ سے پہلے ان لوگوں نے سکیورٹی گارڈ سے موبائل فون چھین لیا اور لوہے کی سلاخ دکھا کر اسے دھمکی دی۔ اس کے بعد یہ لوگ دفتر میں داخل ہوئے اور جم کر توڑ پھوڑ کی۔

ابھیجیت دپکے کی تعلیمی قابلیت اور ڈگری کو لے کر اٹھنے والے سوالات پر بھی انہوں نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ عوامی زندگی میں ہیں، ان کی ڈگری اور تعلیم کے بارے میں سوال پوچھے جا سکتے ہیں۔

راہل گاندھی کو مستقبل کا وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے عاصم وقار نے کہا کہ مجھے یہ بات بہت عرصے سے معلوم ہے۔ میں گزشتہ 5 سال سے یہ کہہ رہا ہوں کہ ملک کے مستقبل کے وزیر اعظم راہل گاندھی ہیں۔

جموں و کشمیر میں برسراقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) بدھ کے روز ریاست کا درجہ بحال کرنے، آئینی تحفظ اور جموں و کشمیر سے متعلق دیگر مسائل کے مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہی ہے۔ وہیں، بی جے پی نے نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سول سیکریٹریٹ تک احتجاجی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک ماہ تک چلنے والی اس مہم کے دوران سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی اور عوامی خدمت سے متعلق متعدد پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔ ان میں خون عطیہ کیمپ، صفائی مہم اور صحت جانچ کیمپ نمایاں ہوں گے۔ آنگن واڑی اور آشا کارکنوں کی خدمات کو سراہنے کے لیے بھی خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

کانگریس کا سوال ہے کہ جن لوگوں نے ’شدھی کرن‘ کیا، ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ اس معاملے کو لے کر کانگریس نے ریاست سے لے کر قومی دارالحکومت دہلی تک احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ راہل گاندھی کے خلاف درج شکایت واپس لینے کے مطالبے کو لے کر 200 سے زائد کانگریسی کارکنان نے دہرادون میں پولیس ہیڈکوارٹر تک مارچ کیا اور اتراکھنڈ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل دیپم سیٹھ کو میمورنڈم بھی پیش کیا۔

بسوراج رائے ریڈی نے اتوار کو کوپل ضلع کے ککنور میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں کہنا چاہوں گا کہ اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں افضل مذہب ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسلام کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے قرآن کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب اور ان کی تاریخ کا بھی مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

امتیاز احمد نے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں بی جے پی ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اورسب کا پریاس‘‘ کے منترکے ساتھ سماج کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے پریقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مثبت سوچ کے ساتھ وہ تنظیم کی سرگرمیوں، عوامی خدمت کے پروگراموں اورعوامی مفاد سے متعلق مسائل کومیڈیا اورڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مؤثراندازمیں عوام تک پہنچانے کی مسلسل کوشش کریں گے۔

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

شرومنی اکالی دل کے صدرسکھبیرسنگھ بادل کی 7 اگست کودہلی میں وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کے بعد دونوں پارٹیون کے درمیان ایک بارپھر اتحاد ہونے کی قیاس آرائیوں نے زورپکڑلیا تھا۔ حالانکہ بی جے پی کے ریاستی صدر نے اب اس پر بریک لگا دیا ہے۔