Bharat Express DD Free Dish

BJP

ہری پرساد نے یہ تبصرہ بی جے پی کے ان الزامات کے جواب میں کیا کہ منگل کو ریاست میں کانگریس کی راجیہ سبھا جیتنے کے بعد پاکستان نواز نعرے لگائے گئے تھے۔

ملک کے 15 ریاستوں کی 56 راجیہ سبھا سیٹوں پرالیکشن ہوئے ہیں، جن میں الگ الگ 12 ریاستوں کی 41 سیٹ پر بلامقابلہ منتخب کئے گئے تھے۔ کرناٹک کی 4، اترپردیش کی 10 اور ہماچل پردیش کی ایک راجیہ سبھا سیٹ پرمنگل کے روز الیکشن ہوا۔ کرناٹک کی 4 سیٹوں میں سے تین سیٹیں کانگریس، اورایک سیٹ بی جے پی جیتنے میں کامیاب رہی جبکہ اترپردیش کی 10 میں سے 8 سیٹ بی جے پی اور دو سیٹ سماجوادی پارٹی نے جیتی ہے۔

اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس وقت دہلی سے 1 روپیہ نکلتا تھا اور 15 پیسے وہاں پہنچتا تھا۔ اگر کانگریس کی حکومت ہوتی تو آج آپ کو جو 21 ہزار کروڑ روپے ملے ہیں

منوج جھا نے کہا کہ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کی عوامی حمایت نے بی جے پی کو پریشان کر دیا ہے اور اب وہ پیسے کی طاقت کا سہارا لے رہی ہے۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے بھی وزیر اعظم مودی کے بارے میں کہا، "اس وقت پی ایم مودی نے مجھے نہیں کہا کہ آپ کانگریس سے ہیں، اگر آپ کانگریس چھوڑ دیں گے تو میں آؤں گا۔ میرے سامنے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی لیکن ہمارے کچھ دوستوں نے ایسا کیا۔" ہمیں شرط لگانے کا موقع بھی نہ دیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے مورچہ سنبھال لیا ہے اور ہماچل پردیش میں اقتدارسے لے کرتنظیم تک میں تال میل بٹھانے کے لئے فارمولے پرغوروخوض شروع کردیا ہے۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہماچل پردیش میں گزشتہ کچھ دنوں سے پاراٹی اراکین اسملی میں ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔

ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندرسنگھ سکھو نے کہا کہ ریاست میں عام آدمی اورملازمین کی حکومت ہے، کچھ لوگ فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں، لیکن ہماری حکومت 5 سال تک چلے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے اراکین اسمبلی بھی ہمارے رابطے میں ہیں۔

کانگریس نے غیر مطمئن ایم ایل اے کو راضی کرنے کے لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو متحرک کردیا ہے۔ تاہم کانگریس کا بحران کم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ دریں اثنا، ویربھدر سنگھ کے بیٹے اور ہماچل حکومت میں پی ڈبلیو ڈی کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

کراس ووٹنگ کے ذریعے، ایس پی کیمپ کے 9 ایم ایل ایز نے اکھلیش یادو کے پلان-3 یعنی تین امیدواروں کو راجیہ سبھا میں لے جانے کے منصوبہ پر پانی پھیر دیا۔ کراس ووٹنگ کو لے کر یوپی کے سیاسی حلقوں میں زوردار بحث جاری ہے۔

جیا بچن اس لحاظ سے نمایاں رہیں کہ انہیں سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ ایس پی امیدوار جیا بچن کو 41 ووٹ ملے۔ دوسرے امیدوار رام جی لال سمن کو بھی 40 ووٹ ملے۔