Bharat Express DD Free Dish

Bihar Politics

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ کی حمایت کا اعلان؛ نیرج کمار نے بھی الزامات پر سخت جواب دیا، پارٹی قیادت نے اختلاف ختم کرنے کی کوشش کی

ملک بھر میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو لے کر بحث جاری ہے۔ اسی دوران جے ڈی یو کے اندر بھی بڑی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ پارٹی کا نام تبدیل کرکے ’جے ڈی یو نتیش‘ کیا جاسکتا ہے۔ ان قیاس آرائیوں کے درمیان 18 ستمبر کو جے ڈی یو کی ایک بڑی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

بہار کی سیاست میں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے نام کی تبدیلی کا معاملہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ پارٹی کے نام کو بدل کر ’جنتا دل نتیش‘ یا ’جے ڈی یو-نتیش‘ رکھنے کا مطالبہ پارٹی کے اندر سے اٹھ رہا ہے، جس کی ریاستی صدر امیش کشواہا نے بھی کھل کر حمایت کر دی ہے۔

بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن آف انکوائری نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کردی ہے۔ کمیشن کی طرف سے پیش کردہ حقائق اورسفارشات کی بنیاد پر بھرت تیواری کے اہل خانہ کو مدد اور انصاف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

پرشانت کشور نے بانکی پور کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ علاقے کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

بانکی پور ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد پرشانت کشور نے بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ کسی مجرمانہ شبیہ رکھنے والا شخص نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی قیادت ایسے باکردار اور صاف شبیہ کے حامل فرد کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، جس پر عوام مکمل اعتماد کر سکیں۔

دتیا میں چوتھے راؤنڈ کے بعد کانگریس امیدوار 833 ووٹوں سے آگے، بانکی پور میں چھٹے مرحلے تک پرشانت کشور 3,451 ووٹوں کی برتری کے ساتھ سرفہرست۔ الیکشن کمیشن نے 6 جولائی کو بہار، گجرات اور مدھیہ پردیش کی تین اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ ان نشستوں پر 30 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

بانکی پور اسمبلی نشست بی جے پی کے سینئر رہنما نتن نبین کے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے باعث یہاں ضمنی انتخاب کرایا گیا۔ یہ نشست پٹنہ صاحب لوک سبھا حلقے کا حصہ ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے بی جے پی کا مضبوط سیاسی مرکز سمجھی جاتی رہی ہے۔

بہار قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) سے بی جے پی کے رکن دیویش کمار نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ نشست دیپک پرکاش کے لیے خالی کی گئی ہے؟