Bharat Express DD Free Dish

Balochistan

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال پاکستان میں مجموعی تشدد میں 25 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کے دوران عام شہریوں، سکیورٹی فورسز اور جرائم پیشہ عناصر سے جڑے واقعات میں کم از کم 3,187 افراد ہلاک اور 1,981 زخمی ہوئے۔

گزشتہ ماہ بھی خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس کی ایک موبائل وین کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق مسلح افراد نے سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے، اس کے بعد حملہ آوروں نے گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔

بی ایل ایف نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے 28 دسمبر کو بلوچستان کے ٹمپ کے گومازی علاقے میں تیسرا حملہ کیا، جہاں ایک فورس چیک پوسٹ پر بھاری گولہ باری کی گئی اور وہاں تعینات پاکستانی فوجیوں کو “کافی نقصان” پہنچایا گیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق، 16 اکتوبر کو جاری کردہ ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت بلوچستان حکومت نے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد صوبائی اور وفاقی لیویز فورس کو صوبے کے سات انتظامی ڈویژنز میں سے چھ میں پولیس کے ساتھ ضم کر دیا ہے اور ان ڈویژنز کو اے ایریا قرار دیا گیا ہے۔

پولیس افسران نے بتایا کہ موٹر سائیکل پر نصب دھماکہ خیز مواد کو ریموٹ کے ذریعے اڑایا گیا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

تحسین  پونہ والا نے اپنی بات میں شہریت قانون (سی اے اے) کی مثال دیتے ہوئے کہا، ’’اگر پاکستان میں ایسا قانون لایا جائے جس میں کہا جائے کہ بھارت میں مظلوم مسلمان پاکستان کی شہریت لے سکتا ہے، تو کتنے بھارتی مسلمان ایسا کرنا چاہیں گے؟ جواب ہے – صفر۔ کیونکہ مسلمان یہاں خوش ہیں۔‘‘

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، بلوچستان، ایک بار پھر شدید کشیدگی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ خطہ دہائیوں سے سیاسی استحصال، فوجی آپریشنوں اور غیرملکی مفادات کی جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج بھی بلوچ عوام خود کو ایک آزاد قوم سمجھتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ زبردستی کیے گئے الحاق کو قبول نہیں کرتے۔

رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریاؤں اور ندی نالوں سے دور رہیں اور میڈیا، موبائل اور NDMA ڈیزاسٹر الرٹ ایپلی کیشن کے ذریعے سرکاری الرٹس پر نظر رکھیں۔ حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے ساتھ ہونے والی شدید بارشوں سے کچے مکانات، بجلی کے کھمبے، ہورڈنگز، گاڑیاں اور سولر پینلز سمیت کمزور ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہرقلات میں بلوچ جنگجوؤں نے ایک بس پراندھا دھند فائرنگ کردی۔ اس فائرنگ میں صابری گروپ کے تین قوال جاں بحق ہوگئے۔ یہ گروپ کوئٹہ میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔ اس واقعہ نے پاکستان کو ایک بارپھر شرمسار کر دیا ہے۔

ہر سال سندھ حکومت اور بلدیاتی ادارے ہنگامی اجلاس منعقد کرتے ہیں اور بارش کی تیاری کے منصوبے بناتے ہیں، جس کے لیے بجٹ میں کروڑوں روپے مختص کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ، درحقیقت ایک نالے کی بھی صحیح طریقے سے صفائی نہیں کی گئی اور ہر سال نالوں کی صفائی کے نام پر فرضی بل بھی بنائے جاتے ہیں۔