Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei

اسرائیل نے بھی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے اور اسے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ہم آہنگی خطے کی سیاسی حرکیات کو تبدیل کر رہی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلنے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ اسلامی جمہوریہ کے یورینیم افزودگی کے پروگرام پر تنازع جاری ہے۔

حالانکہ، ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے سے گریز کرنا چاہتے ہیں جو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کی طرح ہو، جس پر باراک اوباما کے دور میں اتفاق ہوا تھا۔ اس میں یورپی یونین اور چین بھی شامل تھے۔ ٹرمپ نے 2018 میں جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن سے دستبرداری اختیار کی اور تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ طویل المدتی امن کے لیے بہت سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں، مشرق وسطیٰ کے دورے میں خلیجی ملک میں موجودگی کے دوران انہوں کہا کہ ہم ایران کے معاملے میں ایک معاہدہ کرنے کے قریب ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خط کے بعد ایران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا لیکن بالواسطہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ فیصلہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے پر بات چیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے مئی میں ایران کے جوہری مقامات پر حملے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جن تنظیموں نے ہتھیار ڈالنے کی بات کہی ہے، ان میں کتائب حزب اللہ اور نجبہ گروپ سرفہرست ہیں۔

ترجمان امریکی محکمہ کارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے پاسداران انقلاب گارڈ کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے،  ایران کو نیوکلیئر اور بیلسٹک میزائل پروگرام کا پھیلاؤ روکنا ہوگا۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں جوہری مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ ’ایران سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں، ایک فوجی کارروائی، دوسرا آپ جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کا معاہدہ کرلیں۔

روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ایرانی سفیر کاظم جلالی کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق صورتحال کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر تبادلہ خیال کیاہے۔