Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ نریندر مودی نے بھی بلڈوزر راج کا جشن منایا ہے، جسے سپریم کورٹ نے آج "لاقانونیت کی صورتحال" قرار دیا ہے۔

اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستانی مسلم کمیونٹی کو اپنی آواز اٹھانے کے لیے ایک آزاد قیادت ہونی چاہیے۔ انہوں نے تین طلاق، وقف بورڈ اور یو اے پی اے جیسے مسائل پر مسلم سماج کے تئیں حکومت کی طرف سے اختیار کئے گئے نقطہ نظر پر تنقید کی۔

اے آئی ایم آئی ایم کے صدر نے دیویندر فڑنویس پر ایم ایل اے خریدنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، "دیویندر فڑنویس، آپ نے بہت سے ایم ایل اے خریدے ہیں، اسے چوری کہیں یا ڈکیتی۔

 انہوں نے پی ایم مودی کے بیان 'اگر انصاف  ہے تو بھارت سیف ہے،  حال ہی میں مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے لیے دھولے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے ایک ہیں تو سیف ہے کا  ' کا نعرہ دیا تھا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ وقف ترمیمی بل پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے ہندو مذہبی اداروں کے زیر کنٹرول زمین کا ڈیٹا بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وقف بورڈ کے بارے میں یہ افواہ پھیلانے والے بی جے پی اور سنگھ کو تھوڑا پڑھنا چاہئے۔

بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے اس سلسلے میں ایک خط جاری کیا ہے۔ بی جے پی کی طرف سے جاری کردہ خط میں لکھا گیا ہے، ’’بھارتیہ جنتا پارٹی مہاراشٹر ریاستی یونٹ کی درخواست پر قومی صدر جگت پرکاش نڈا کے فیصلے کے مطابق، اتحادی جماعتوں کے امیدوار اسمبلی انتخابات میں حصہ لیں گے۔‘‘

چین کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ہندوستان اور چین مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر پٹرولنگ  سے متعلق ایک معاہدے پر رضامند ہوئے تھے۔

اسد الدین اویسی نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ کے چمولی میں 15 مسلم خاندانوں کا بڑے پیمانے پر بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ ہم نے مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کو خط لکھا اور ان سے کہا کہ وہ ہم سے بات کریں اور بی جے پی اور شندے کو روکیں لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔

اسد الدین اویسی نے کہا، "یوگی حکومت کی پالیسی آئین کے خلاف ہے، یوگی حکومت کو بندوق کے زور سے نہیں قانون کی حکمرانی سے حکومت چلانی چاہیے۔