Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

جن ارکان پارلیمنٹ کو جے پی سی سے معطل کیا گیا ہے ان میں اسد الدین اویسی، عمران مسعود، کلیان بنرجی، اروند ساونت، ناصر حسین، اے راجہ، محب اللہ ندوی، ایم ایم عبداللہ، ندیم الحق، محمد جاوید شامل ہیں۔

سابق رکن اسمبلی آصف محمد خان نے سوال کیا کہ صرف مسلم اکثریتی علاقوں سے ہی اسدالدین اویسی کی پارٹی کے امیدوارکیوں میدان میں اتارے جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جہاں سیکولرپارٹیوں کو نقصان ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، وہاں پر ہی مجلس کا امیدوار میدان میں ہوتا ہے۔

دہلی اسمبلی الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے بعد آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے اوکھلا اسمبلی حلقہ سے امیدوارکا اعلان کیا ہے۔ یہاں سے دہلی فساد کے الزام میں جیل میں بند شفاء الرحمٰن کو ٹکٹ دیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا تھا کہ بی جے پی اورعام آدمی پارٹی دونوں کی ماں آرایس ایس ہے۔ بی جے پی کے بعد آرایس ایس نے عام آدمی پارٹی کو پیدا کیا ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی کی طرف سے اجمیرشریف درگاہ کے لئے بھیجی گئی چادرہفتہ کے روزپیش کی گئی۔ مرکزی وزیربرائے اقلیتی امورکرن رجیجو یہ چادرلے کراجمیرپہنچے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ 1991 کومنسوخ نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسے منسوخ کرنے سے ملک کا ماحول خراب ہوگا۔

اس سے قبل سنیچر (28 دسمبر 2024) کو سنبھل میں جامع مسجد کے سامنے والی زمین پر پولیس چوکی کی تعمیر کے لیے بھومی پوجن کی گئی تھی۔ سنبھل کے اے ایس پی شریش چندر نے بتایا کہ سیکورٹی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس چوکی بنائی جا رہی ہے۔ اے ایس پی شریش چندرا نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے لیے بھی قریب ہی رہائشی انتظامات کیے جائیں گے۔ بھومی پوجن مکمل ہو چکا ہے۔

دوسری جانب شیوسینا (یو بی ٹی)، عام آدمی پارٹی، کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بل کو فوری طور پر واپس لے۔ چونکہ ون نیشن ون الیکشن بل الیکشن کمیشن کو صدر کو مشورہ دینے کا غیر قانونی اختیار دیتا ہے۔

پارلیمنٹ میں آئین پر جاری بحث کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ ملک میں مساجد خطرے میں ہیں۔ وقف بورڈ کو چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

طاہر حسین نے کہا کہ اس وقت عدالت میں بحث صرف الزامات عائد کرنے پر ہو رہی ہے۔ اسے مکمل ہونے میں کافی وقت لگنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، ایک اور ملزم کی درخواست پر، ہائی کورٹ نے فی الحال اس عدالت کو الزامات طے کرنے کے احکامات دینے سے روک دیا ہے۔