Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

گزشتہ روز رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اپنےایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ سنبھل سے مسلمان ڈر کے مارے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں ۔ اویسی کے بقول سنبھل میں خوف اور جبر کا ایسا ماحول بنا ہوا ہے کہ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

دہلی اسمبلی انتخابی مہم کا شور پیر کی شام سے تھم گیا ہے اور امیدوار گھر گھر مہم چلا رہے ہیں۔ ووٹنگ بدھ کو ہے لیکن دہلی کی مسلم کمیونٹی، جو ایک ہی سمت میں ووٹ ڈالتی ہے، اس بار مخمصے کا شکار ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی اور اوکھلا سے امیدوار شفاء الرحمٰن نے پیدل یاترا کرکے عوام سے ووٹ مانگا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ پیدل یاترا میں شامل ہوئے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی بی جے پی اور عام آدمی پارٹی پرایک ساتھ حملہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو دبانا چاہتی ہے تو وہیں وہ اروند کیجریوال کو چھوٹا ریچارج کہہ کرمخاطب کرتے ہیں۔

سی اے اے اور این آرسی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کرنے والے شفاء الرحمٰن دہلی فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں جیل میں بند ہیں۔ انہیں عدالت نے کچھ شرائط کے ساتھ انتخابی تشہیر کے لئے حراستی پیرول دیا ہے۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ 5 فروری کو آپ کو یہ طے کرنا ہے کہ ہمیں نفرت کرنے والوں کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ لیکن ووٹ کسے دینا ہے، یہ سوال بنا رہتا ہے۔ اگر وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں، تو کیا ہمیں ان کے ساتھ مل اپنے حق کے لیے لڑنا چاہیے؟ یہی وقت ہے،  5 فروری کو آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر فرعون  کو ہرانا چاہتے ہیں تو موسیٰ (پیغمبر) کا ساتھ دینا ہوگا۔

طاہر حسین کی بیٹی نے جلسے میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کو سپورٹ کریں،  مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے،  آپ کا ایک ووٹ مجھے میرے والد سے جوڑ سکتا ہے،  کاش کوئی میرے سر پر ہاتھ رکھے اور کہے لگے کہ بیٹا تمہارے والد جلد ہی آئیں گے،  دنیا نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔

وقف بورڈ پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے بارے میں، اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ، ’’چیئرمین نے ارکان کو اپنی ترامیم پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں دی۔ اگر آپ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے پیش کردہ ترامیم دیکھیں تو وہ ناگوار ہیں۔

دہلی اسمبلی انتخابات میں اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار امانت اللہ خان نے اسد الدین اویسی پر اپنے خلاف امیدوار کھڑا کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ وہ بی جے پی کی جیت کو یقینی بنانے آئے ہیں۔

اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم انصاف کی لڑائی میں ہمیشہ سب سے آگے رہے گی۔ امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں برابری حاصل کرنی ہے اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونا ہے۔ طاہر حسین کا ساتھ دے کر انہوں نے یہ پیغام دیا کہ ان کی جدوجہد کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔