کلکی دھام کے پیٹھادھیشور اچاریہ پرمود کرشنم نے ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اویسی صاحب اسلام میں جھوٹ بولنا حرام ہے،اور آپ سنبھل کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں کہ سنبھل کے مسلمان ہجرت کررہے ہیں ۔ملزمین کےفرار ہونے کو ہجرت کہنا جائز نہیں ہے۔ اس پر تو آپ کے خلاف فتویٰ جاری ہونا چاہیے۔
इस्लाम में “झूठ”
बोलना “हराम” है @asadowaisi साहब,
और आप “संभल” के बारे में कोरा झूठ बोल रहे हैं के संभल से मुसलमान पलायन कर रहे हैं,
अपराधियों के फ़रार होने को “पलायन”
कहना जायज़ नहीं है,
आपके ख़िलाफ़ तो “फ़तवा” जारी होना चाहिये.— Acharya Pramod (@AcharyaPramodk) February 20, 2025
واضح رہے کہ گزشتہ روز رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اپنےایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ سنبھل سے مسلمان ڈر کے مارے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں ۔ اویسی کے بقول سنبھل میں خوف اور جبر کا ایسا ماحول بنا ہوا ہے کہ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ حکومت کو سنبھل کے مسلمانوں کو نشانہ بنانا بند کرنا ہوگا اور انہیں اجتماعی سزا دینا روکنا ہوگا، اعتماد سازی کے لیے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں۔ مودی اور بی جے پی نے بار بار جھوٹی افواہیں پھیلائیں کہ ہندو کچھ علاقوں سے ‘ہجرت’ کر رہے ہیں، ہر بار یہ جھوٹی ثابت ہوئی۔ یہاں پولیس اور انتظامیہ خود تسلیم کر رہی ہے کہ مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے، پھر حکومت کیوں خاموش ہے؟ اب اچاریہ پرمود کرشنم نےاسی بیان پر پلٹ وار کیا ہے۔
संभल में इतना डर और ज़ुल्म का माहौल बना दिया गया है कि लोग अपने घर छोड़ने पर मजबूर हो रहे हैं। सरकार को संभल के मुसलमानों को निशाना बनाना और उन्हें इज्तिमाई सज़ा देना बंद करना होगा, जल्द से जल्द एतिमाद-साज़ी के क़दम उठाए जाने चाहिए। मोदी और भाजपा ने बार-बार झूठी अफ़वाह फैलाई थी… https://t.co/Iz7lRMTQx2
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) February 16, 2025
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

