Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما وجے شاہ نے کرنل صوفیہ قریشی کے لیے غلط  اور  نا شائستہ الفاظ استعمال کیے تھے۔ وجے شاہ نے کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی بہن ہے۔ نا شائتہ نے اس پر بھی آواز اٹھائی تھی اور وجے شاہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

بی جے پی کی کیرالہ یونٹ کے صدر اور سابق مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے ایک بیان میں اسد الدین اویسی اور کانگریس لیڈر ششی تھرور کی حب الوطنی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں رہنما بی جے پی کے نظریاتی مخالف ہیں لیکن جب ملک کو بحران کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک کا ساتھ دیا۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ سیاسی فیصلوں کے لیے کسی سفارت کار کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر چند جنگ کے بھوکے شرپسند عناصر کی جانب سے سکریٹری خارجہ وکرم مسری اور ان کی بیٹی کو نشانہ بنایا گیا اور انھیں گالیاں دی گئیں۔

کیا ہم پاکستان کو مستقبل میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے روکنے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں، یا ہمارا مقصد صرف جنگ بندی تھا؟

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی آپریشن سندور کی تعریف کی ہے۔ حال ہی میں، ایک عوامی پلیٹ فارم سے، اویسی نے ’پاکستان مردہ باد‘ اور ’ہندوستان زندہ باد‘ کے نعرے لگا کر اپنی حب الوطنی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور ہر ہندوستانی کو دہشت گردی کے خلاف حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کشمیر کے اپنے دورے کے دوران پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اورپاکستان کوسخت جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایسی کارروائی کرنی چاہئے، جس سے پاکستان 100 بار سوچے۔ پاکستانی فوج رشتے خراب کررہی ہے اورماحول خراب کررہی ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا، "پاکستان کبھی یہ قبول نہیں کرے گا کہ اس کی سرزمین سے دہشت گرد ہندوستان میں گھس کر معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ نرمی دکھانے کا وقت اب ختم ہو گیا ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم ، بہار کے سربراہ اختر الایمان نے جمعہ کو کہا کہ اویسی ریاست کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران کشن گنج اور سیمانچل کے دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں کئی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ 30 اپریل کورات 9 بجے سے 9:15 بجے تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بلیک آؤٹ احتجاج کی حمایت کریں، جووقف (ترمیمی) قانون کے خلاف ہے۔