Bharat Express DD Free Dish

Arvind Kejriwal

دہلی کے انتخابی نتائج نے کجریوال کے پہلے بڑے دعوؤں پر فُل اسٹاپ لگا دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی نے ایک بار پھر قومی راجدھانی میں اپنا تسلط قائم کر لیا ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات -2025 میں، بی جے پی نے زبردست جیت درج کی ہے اور 27 سال بعد اقتدار میں واپس آئی ہے۔ اس الیکشن میں وزیر اعلی اروند کیجریوال اور منیش سسودیا جیسے بڑے لیڈر اپنی سیٹیں نہیں بچا سکے۔

دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج عام آدمی پارٹی کیلئے کافی تکلیف دہ ہیں چونکہ اس بار اعلیٰ قیادت بھی ہار گئی ہیں ۔ سابق وزیراعلیٰ اروند کجریوال اپنی سیٹ نہیں بچا پائے ہیں ،وہیں سابق ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج عام آدمی پارٹی کیلئے کافی تکلیف دہ ہیں چونکہ اس بار اعلیٰ قیادت بھی ہار گئی ہیں ۔ سابق وزیراعلیٰ اروند کجریوال اپنی سیٹ نہیں بچا پائے ہیں ،وہیں سابق ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

منیش سسودیا کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ اروند کجریوال  نئی دہلی کی سیٹ  بچانے میں ناکام ہوگئے ہیں ،یہاں سے بی جے پی کے پرویش ورما نے کجریوال کو ہرا یا ہے۔وہیں آتشی مارلینا جو کالکاجی سیٹ سے امیدوار تھیں ،انہیں جیت مل گئی ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین  نے دو امیدوار اتارے تھے،اور دونوں سیٹ پر ان کے امیدوار فی الحال پیچھے چل رہے ہیں ، اوکھلا اور مصطفی آباد پر ایم آیی ایم نے جیل میں بند شفاء الرحمن اور طاہر حسین کو امیدوار بنایا تھا ،اوکھلا میں شفاء الرحمن پیچھے ضرور ہیں۔

دوپہر بارہ بجے تک کی گنتی کے مطابق یہاں مصطفیٰ آباد کی سیٹ پر  دس راونڈ کی کاونٹنگ کے بعد قریب 63ہزار ووٹ کے ساتھ جیت کی طرف بڑھ رہے ہیں ،وہیں دوسرے نمبر پر عام آدمی پارٹی  کے عادل احمد خان 38ہزار سے زیادہ ووٹوں سے پیچھے ہوتے ہوئے دونمبر پر ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اب تک کے رجحانوں میں عام آدمی اور کانگریس کے سینئر لیڈران کافی پیچھے چل رہے ہیں ۔ دہلی کے سابق سی ایم اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر  اروند  کجریوال صبح سے مسلسل پیچھے چل رہے ہیں۔

بیلٹ پیپر کی گنتی کے بعد ای وی ایم کھل چکا ہے اور کئی راونڈ کی جگہ پر گنتی بھی پوری ہوچکی ہے۔ البتہ کل 70 سیٹوں کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کو اپنے دم پر اکثریت ملتی نظرآرہی ہے۔ بی جے پی فی الحال 50 سیٹوں پر آگے نظرآرہی ہے۔

واضح رہے کہ آٹھ بجے سب سے پہلے بیلٹ پیپر کی گنتی شروع کی گئی ہے،ابھی ای وی ایم نہیں کھولا گیا ہے۔ بیلٹ پیپر کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی ای وی ایم میں قید ووٹوں کی گنتی شروع کی جائے گی۔