Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah

بی جے پی کی تاریخی جیت کے بعد حکومت سازی اور کابینہ تشکیل پر مشاورت تیز ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، پارٹی نے 294 میں سے 206 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی ہے، جب کہ ترنمول کانگریس 80 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

بنگال میں بی جے پی کی پہلی بار حکومت بننے جا رہی ہے۔ بی جے پی نے ممتا بنرجی کے سب سے مضبوط قلعہ پرقبضہ کیا ہے۔ یہ جیت بی جے پی کے لئے صرف ایک ریاست کی جیت نہیں ہے بلکہ بی جے پی نے ایک بڑے خواب کو بھی مکمل کیا ہے۔ بی جے پی نے تقریباً 200 سیٹوں پر جیت حاصل کرلی ہے۔ اس طرح سے ممتا بنرجی کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے۔

مغربی بنگال میں پارٹی نے وزیرداخلہ امت شاہ کواسٹریٹجک ذمہ داری سونپی ہے، جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ کے انتخاب اورحکومت سازی کی سمت واضح ہوتی نظرآرہی ہے۔ وہیں آسام کی ذمہ داری سابق قومی صدرجے پی نڈا کو دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر امت شاہ کے اس پیغام کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے بھی منوہر لال کھٹر کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ یوزر نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہریانہ کی سیاست میں ایک نئی سمت دی

اوما بھارتی نے اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور پارٹی کارکنان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بار بی جے پی کی جیت طے تھی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ممتا بنرجی کی پارٹی کی ایک رکن کا گانا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔

ششی تھرور نے کہا کہ یہ نتائج کانگریس کے لیے ایک اہم سبق ہیں اور پارٹی کو چاہیے کہ وہ ان سے سیکھ کر اپنی آئندہ حکمت عملی تیار کرے۔ تھرور کے مطابق صرف تنقید کرنے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بی جے پی نے بنگال میں اپنی سیاسی زمین مضبوط کرنے کے لیے کافی پہلے سے تیاری شروع کر دی تھی۔ اسی سلسلے میں ’نریندر کپ‘ کے نام سے فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 1200 ٹیموں اور تقریباً 18,000 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ خواتین کے مقابلوں میں بھی 253 ٹیمیں شامل ہوئیں، جن میں 18 سے 25 سال کے نوجوان شریک تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر غیر معمولی انتخابی مہم چلائی، جس نے ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی۔ پارٹی نے بڑے پیمانے پر ریلیوں، روڈ شوز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ووٹروں تک رسائی حاصل کی اور انتخابی منظرنامے کو یکسر بدلنے کی کوشش کی۔