Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah

اس تقریب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں، کارکنان اور حامیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں یدی یورپا کے بیٹے اور ریاستی بی جے پی صدر بی وائی وجیندر، سابق وزیر بی سری راملو سمیت کئی سینئر لیڈر بھی موجود تھے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بنگال کے عوام نے بی جے پی سے بڑی امیدیں وابستہ کی ہیں اور پارٹی پوری ذمہ داری کے ساتھ ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ ”سونار بنگلہ“ کے خواب کو حقیقت میں بدلیں اور ریاست کو ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی راہ پر لے جائیں۔

مغربی بنگال میں بی جے پی نے شوبھندوادھیکاری کونئے وزیراعلیٰ اور اگنیمترا پال اور نسیتھ پرمانک کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ امت شاہ نے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ریاست میں تشدد پرتنقید کی اوربنگال میں ترقی کے لئے بی جے پی کے عزم کا اعادہ کیا۔

مغربی بنگال میں بی جے پی مقننہ پارٹی کی اہم میٹنگ آج دوپہر 2 بجے کولکاتا میں ہوگی۔ مرکزی مبصرین امت شاہ اور موہن چرن ماجھی کی موجودگی میں بنگال کے نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔ 9 مئی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوگی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پہلگام میں شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو بھارت نے ایسا جواب دیا جس نے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سرپرستوں کو واضح پیغام دے دیا کہ بھارت اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ”آپریشن سندور“ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ملک کے وقار، سلامتی اور عوامی اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔

نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب 12 مئی کو گوہاٹی کے خاناپارا علاقے میں واقع ویٹرنری کالج میدان میں منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ خصوصی طور پر شرکت کریں گے، جبکہ این ڈی اے کے کئی سینئر لیڈر اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود رہیں گے۔

ھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی چار دن تک جاری رہی، جس کے بعد 10 مئی 2025 کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ آپریشن سندور کو بھارت کی دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی، عسکری تیاری اور مربوط کارروائی کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بہار میں ’سمراٹ حکومت‘ تشکیل دینے کے بعد امت شاہ کا اگلا ہدف بنگال ہے۔ آج کولکاتا پہنچ کر شاہ اس میٹنگ کی کمان سنبھالیں گے، جہاں یہ طے ہوگا کہ بنگال کا پہلا بی جے پی وزیرِ اعلیٰ کون بنے گا؟

ذرائع کے مطابق 19 مئی کی اس میٹنگ میں صرف چھتیس گڑھ ہی نہیں بلکہ دیگر اہم ریاستوں کی قیادت بھی شریک ہوگی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے، سرحدی علاقوں کی نگرانی بڑھانے اور نکسلیوں کے فرار کے راستوں کو بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اگرچہ سوویندو ادھیکاری کو سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی روایت رہی ہے کہ وہ اکثر ایسے فیصلے کرتی ہے جو سب کو حیران کر دیتے ہیں۔ امت شاہ کی ترجیح ایسے لیڈر کا انتخاب ہے جو مضبوط انتظامیہ چلا سکے، سرحدی دراندازی پر قابو پائے اور ’’سونار بنگلہ‘‘ کے وژن کو عملی شکل دے سکے۔