Bharat Express DD Free Dish

Agricultural Reforms: دو برس میں کسان اپنی دالیں براہِ راست  کرسکیں گے فروخت، وزیرداخلہ امت شاہ نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے پر دیا زور

مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر بھارت کو دالوں کی پیداوار میں خود کفیل بنانا ہے تو نیفیڈ اور این سی سی ایف کو کسانوں سے دال کا ایک ایک دانہ براہِ راست خریدنے کی سمت تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب اور منافع بخش قیمت ملے گی، دالوں کی کاشت کا رقبہ بڑھے گا اور ملک اس شعبے میں خود کفیل بن سکے گا۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ اور وزیرِ تعاون امت شاہ نے ملک بھر کے کسانوں کے لیے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں کسان اپنی دالوں کی پیداوار براہِ راست نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا (NAFED) اور نیشنل کوآپریٹو کنزیومرز فیڈریشن آف انڈیا (NCCF) (این سی سی ایف) کو فروخت کر سکیں گے اور اس کی رقم براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ امت شاہ نے نئی دہلی میں نافیڈ کے ای۔نیلامی پورٹل NAFEX.in کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں دالوں، مکئی اور دیگر زرعی اجناس کی براہِ راست خریداری کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا چکا ہے، جسے اب گاؤں کی سطح تک پہنچانا ضروری ہے۔

دالوں میں خود کفالت کے لیے براہِ راست خریداری پر زور

مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر بھارت کو دالوں کی پیداوار میں خود کفیل بنانا ہے تو نیفیڈ اور این سی سی ایف کو کسانوں سے دال کا ایک ایک دانہ براہِ راست خریدنے کی سمت تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب اور منافع بخش قیمت ملے گی، دالوں کی کاشت کا رقبہ بڑھے گا اور ملک اس شعبے میں خود کفیل بن سکے گا۔ امت شاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں اداروں کو مکمل شفافیت اور عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا، کیونکہ اسی صورت میں مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔

نیفیڈ کی چار نئی پہل، کاروبار اور منافع میں اضافہ

امت شاہ نے کہا کہ نیفیڈ نے آج چار اہم اقدامات NAFEX.in، DRISHTI، ERP اور NAFED Kalyan کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ 2014 میں نیفیڈ بند ہونے کے دہانے پر تھا، لیکن شفافیت اور حکومتی تعاون کے ذریعے آج یہ ادارہ 74 لاکھ سے زائد کسانوں کی خدمت کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیفیڈ کا سالانہ کاروبار 30 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ اسے تقریباً 500 کروڑ روپے کا منافع حاصل ہو رہا ہے۔ وزیرِ تعاون نے کہا کہ وزارتِ تعاون کے قیام کے وقت نافیڈ کا کاروبار 20 ہزار کروڑ روپے تھا، جو اب بڑھ کر 30 ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے، اور انہیں یقین ہے کہ آئندہ دو برس میں یہ 50 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیفیڈ کا خالص منافع 139 کروڑ روپے سے بڑھ کر 405 کروڑ روپے اور ادارے کی مجموعی مالیت 358 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2,050 کروڑ روپے ہو گئی ہے، جس سے یہ ایک مضبوط، مالی طور پر مستحکم اور خود کفیل ادارہ بن چکا ہے۔

دلالی نظام کے خاتمے اور کسانوں کے بچوں کے لیے وظائف

امت شاہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نیفیڈ اور این سی سی ایف مکمل شفافیت کے ساتھ کسانوں سے براہِ راست دالوں اور دیگر فصلوں کی خریداری کریں، تاکہ درمیان کے تمام دلالوں کا نظام ختم ہو اور کسانوں کا اصل منافع انہی تک پہنچے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نیفیڈ نے اپنے سالانہ منافع کا ایک فیصد حصہ کسان خاندانوں کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور کیریئر کی ترقی کے لیے وظائف کے طور پر مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے کسانوں کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے اور بہتر مستقبل بنانے میں مدد ملے گی۔

شیاما پرساد مکھرجی کو خراجِ عقیدت

اپنی تقریر کے آغاز میں امت شاہ نے شیاما پرساد مکھرجی کے یومِ قربانی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے ’’ایک ملک، ایک آئین، ایک سربراہ‘‘ کے اصول کو عملی جامہ پہنانے اور ملک کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جان قربان کی۔ امت شاہ نے کہا کہ تقسیمِ ہند کے دوران مکھرجی نے مغربی بنگال کو بھارت کا حصہ برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے آج مغربی بنگال ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read