Bharat Express DD Free Dish

Agriculture

حکومت کا کہنا ہے کہ قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی منظوری کے بعد ان منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہوگا، جس سے ملکی پیداوار میں اضافہ اور یوریا کے شعبے میں خود کفالت کے ہدف کے حصول کو مزید تقویت ملے گی۔ واضح رہے کہ محکمۂ کھاد نے 2012 میں یوریا کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پالیسی نافذ کی تھی۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا پائیدار زراعت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک دوسرے کے بہترین تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے اور دونوں ممالک کے نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر بھارت کو دالوں کی پیداوار میں خود کفیل بنانا ہے تو نیفیڈ اور این سی سی ایف کو کسانوں سے دال کا ایک ایک دانہ براہِ راست خریدنے کی سمت تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب اور منافع بخش قیمت ملے گی، دالوں کی کاشت کا رقبہ بڑھے گا اور ملک اس شعبے میں خود کفیل بن سکے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کسان، صنعت اور ماہرین زراعت کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ بھارت عالمی مارکیٹ سے بہتر طور پر منسلک ہو سکے۔ انہوں نے معیار اور برانڈنگ پر بھی زور دیا اور کہا کہ حیاتیاتی اور قدرتی زراعت کو فروغ دینے سے مجموعی صحت میں اضافہ ہوگا۔

بھارت کے 10 بڑے  زرعی انقلابوں (سبز، سفید، نیلے اور پیلے انقلاب) کے بارے میں جانیے اور سمجھیں کہ کس طرح ان مہمات نے ملک کو اناج، دودھ اور مچھلی کی پیداوار میں خود کفیل بنایا۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملک بھر سے آئے مختلف کسان تنظیموں کے لیڈروں سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اس ملاقات میں کسان نمائندوں نے اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی گفتگو کی اور اسے کسانوں کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو قدرتی کھیتی کو بھارت کے زرعی مستقبل کی مضبوط بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ کسانوں کی پیداوار اور آمدنی بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران، ملک بھر میں 50 لاکھ سے زائد کسانوں نے 10,000 سے زیادہ ایف پی اوز میں شیئر ہولڈنگ حاصل کی ہے۔

شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے مضمون میں اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت زرعی شعبے کو بااختیار بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔

سریش گونڈالیا نے کہا دکہ وزیر اعظم مودی ہمیشہ دوسرے ممالک کی حمایت کرتے ہیں، اس لیے میری رائے میں تجارت بڑھے گی۔ جب سے پی ایم مودی کا دور 2014 میں شروع ہوا، ہندوستان میرے مطابق 11ویں نمبر پر تھا اور اب وہ تقریباً تیسرے نمبر پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میری رائے میں، اس سال کے آخر تک یا زیادہ سے زیادہ مارچ 2026 تک، ہندوستان عالمی معیشت کے طور پر تیسرے نمبر پر آ سکتا ہے۔