Bharat Express DD Free Dish

Farmers

مرکزی حکومت کسانوں کے مفاد میں کئی طرح کی اسکیمیں چلا رہی ہے۔ انہی میں پی ایم کسان سمان ندھی اسکیم بھی شامل ہے، جس کی تعریف کرتے ہوئے مستفید کسانوں نے کہا کہ یہ اناج پیدا کرنے والے کسانوں کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔

بھارت کی زرعی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 64 فیصد ہے، زرعی افرادی قوت میں نمایاں حصہ رکھنے کے باوجود بہت سی خواتین کو زمین، مالی وسائل اور دیگر ضروری سہولیات تک مردوں کے برابر رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ان کی پیداواری صلاحیت اور آمدنی پر پڑتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی-2026 کی منظوری کے بعد ان منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہوگا، جس سے ملکی پیداوار میں اضافہ اور یوریا کے شعبے میں خود کفالت کے ہدف کے حصول کو مزید تقویت ملے گی۔ واضح رہے کہ محکمۂ کھاد نے 2012 میں یوریا کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پالیسی نافذ کی تھی۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے اعلیٰ سطحی سفارتی عزائم کو عوام کے لیے حقیقی معاشی مواقع میں تبدیل کریں گے اور بھارت کے کسانوں، کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں (ایم ایس ایم ایز) اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر بھارت کو دالوں کی پیداوار میں خود کفیل بنانا ہے تو نیفیڈ اور این سی سی ایف کو کسانوں سے دال کا ایک ایک دانہ براہِ راست خریدنے کی سمت تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب اور منافع بخش قیمت ملے گی، دالوں کی کاشت کا رقبہ بڑھے گا اور ملک اس شعبے میں خود کفیل بن سکے گا۔

گریٹر نوئیڈا اتھارٹی سے متاثرہ کسانوں نے آج ایک مہاپنچایت منعقد کی۔ اس مہاپنچایت میں 4 فیصد آبادی پلاٹ سے محروم تقریباً 40 دیہاتوں کے کسانوں نے شرکت کی۔ پنچایت میں کسانوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی مانگوں کے حق میں آئندہ 29 تاریخ کو گریٹر نوئیڈا سے لکھنؤ تک پیدل مارچ کریں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی 20 اور 21 جون کو مغربی بنگال کے دو روزہ دورے پر رہیں گے، جہاں وہ ہگلی اور کولکاتا میں متعدد اہم پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ اس دوران وہ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح، کسانوں کے لیے بڑی اسکیموں کا آغاز اور عالمی یومِ یوگا کی مرکزی تقریب کی قیادت بھی کریں گے۔

مرکز کی مودی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں اور زرعی شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی رپورٹ کارڈ پیش کیا۔ پی ایم کسان، فصل بیمہ یوجنا، ایگری اسٹیک، سوائل ہیلتھ کارڈ اور قدرتی کھیتی جیسی اسکیموں کو کسانوں کی خوشحالی اور خودکفالت کی بنیاد قرار دیا گیا۔

کانگریس کے رکن پارلیمان عمران مسعود نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں متوسط اور غریب طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، لیکن حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرتی نظر نہیں آتی۔

یہ اجلاس صبح ساڑھے گیارہ بجے بھارت منڈپم میں شروع ہوا، جس میں تقریباً 1500 سے زائد نمائندوں نے حصہ لیا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد زرعی ترقی، دیہی معیشت کی مضبوطی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور امدادِ باہمی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے پر غور کرنا تھا۔